• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 3256

    عنوان:

    الحمد للہ، ہم ولیمہ کا معنی جانتے ہیں ، لیکن میں بتانا چاہوں گا کہ ہمارے گاؤ میں شادی کے موقع پر نکاح کے بعد گاؤں کے لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا، چونکہ ہمارے کچھ رشتہ دار آئے تھے۔ نکاح کی اہمیت کی وجہ سے دوپہر کے کھانے کا نظم کیا جاتاہے۔ اگر ہم نکاح کے بعد دوسرے دن ولیمہ کریں تو کوئی نہیں آئے گااس لیے ہم اسی دوپہر کے کھانے کو ولیمہ شمار کرتے ہیں ، کیا درست ہے؟ یا نکاح کے بعد دوپہر کے کھانے کے بجائے دوسرے دن ولیمہ کرنا ضروری ہے؟

    سوال:

    الحمد للہ، ہم ولیمہ کا معنی جانتے ہیں ، لیکن میں بتانا چاہوں گا کہ ہمارے گاؤ میں شادی کے موقع پر نکاح کے بعد گاؤں کے لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا، چونکہ ہمارے کچھ رشتہ دار آئے تھے۔ نکاح کی اہمیت کی وجہ سے دوپہر کے کھانے کا نظم کیا جاتاہے۔ اگر ہم نکاح کے بعد دوسرے دن ولیمہ کریں تو کوئی نہیں آئے گااس لیے ہم اسی دوپہر کے کھانے کو ولیمہ شمار کرتے ہیں ، کیا درست ہے؟ یا نکاح کے بعد دوپہر کے کھانے کے بجائے دوسرے دن ولیمہ کرنا ضروری ہے؟

    جواب نمبر: 3256

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 420/ ھ= 301/ ھ

     

    وہ دوپہر والا کھانا ولیمہ نہیں، اجتماع زوجین کے بعد حسب موقعہ غرباء اعزہ مساکین کو کھانا کھلادیں وہ ولیمہ ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند