• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 2813

    عنوان:

    میر ا ایک دوست ہے ، وہ آغاخانی شیعہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتاہے، وہ لڑکی کلمہ پڑھتی ہے ، پانچوں وقت کی نماز پڑھتی ہے، صحابہ کرام کی بارے میں کوئی غلط بات نہیں کرتی ہے، صرف اماموں پر ایمان رکھتی ہے۔ دونوں چھ سال سے بات چیت کررہے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ میں سنی ہوجاؤں گی، لیکن مجھے بتاؤکہ میرے اندر کیا غلط ہے؟چونکہ سنی جن پر ایمان رکھتے ہیں ان پر میں بھی ایمان رکھتی ہوں۔ براہ کرم، یہ بتائیں کہ کیا یہ شادی جائز ہوگی یا نہیں؟

    سوال:

    میر ا ایک دوست ہے ، وہ آغاخانی شیعہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتاہے، وہ لڑکی کلمہ پڑھتی ہے ، پانچوں وقت کی نماز پڑھتی ہے، صحابہ کرام کی بارے میں کوئی غلط بات نہیں کرتی ہے، صرف اماموں پر ایمان رکھتی ہے۔ دونوں چھ سال سے بات چیت کررہے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ میں سنی ہوجاؤں گی، لیکن مجھے بتاؤکہ میرے اندر کیا غلط ہے؟چونکہ سنی جن پر ایمان رکھتے ہیں ان پر میں بھی ایمان رکھتی ہوں۔ براہ کرم، یہ بتائیں کہ کیا یہ شادی جائز ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 2813

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 154/ د= 23/ ک

     

    آغا خانی شیعوں کے عقائد کفریہ و شرکیہ ہوتے ہیں ایسے عقیدہ کا ماننے والا شخص جب تک اپنے سابق کفریہ عقیدہ سے سچی توبہ کرکے تجدید ایمان کے ذریعہ دائرہٴ اسلام میں داخل نہیں ہوتا مومن نہیں ہوگا، صرف کلمہ پڑھنے اور نماز ادا کرنے سے اپنے کفریہ عقائد پر برقرار رہتے ہوئے مومن نہیں کہلائے گا۔ لہٰذا مذکورہ فی السوال لڑکی جب اماموں پر ایمان رکھتی ہے اور اس فرقہ کے عقائد کے مطابق اماموں پر ایمان حد کفر میں داخل ہے۔ تو موجبات کفر کے ہوتے ہوئے اس کا ایمان، نماز شرعاً معتبر نہیں ہیں۔ اور صرف اس کا سنی ہوجانے کا وعدہ کرنا کافی نہیں ہے بلکہ کفریہ شرکیہ عقائد سے توبہ کرکے تجدید ایمان کرنا ضروری ہے۔ اور اگر اس کے عقائد یعنی اماموں پر ایمان لانا حد کفر تک نہ ہو تو اس کے عقائد کی تشریح اور اماموں پر ایمان لانے کی وضاحت اس سے معلوم کرکے دوبارہ حکم شرعی معلوم کریں۔ بشرطیکہ وہ اپنے بیان میں سچی ہو۔ تقیہ سے کام نہ لے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند