• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 2502

    عنوان:

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک مسلم لڑکا ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، وہ لڑکی اسلام لانے کے لیے تیار ہے، اور اسلامی شریعت کے مطابق شادی کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بات اپنے گھر والوں پر افشا نہیں کرنا چاہتی ہے، اس لڑکی کے والدین اسلامی نکاح کے بعد ان دونوں کا نکاح عیسائی رسومات کے مطابق کرانا چاہتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لڑکا اسلامی طریقے سے نکاح کرنے کے بعد صرف لڑکی کے والدین کی خاطر عیسائی طریقے کے مطابق نکاح کرسکتاہے؟ ان دونوں کا ذہن بالکل صاف ہے کہ صرف اسلامی نکاح ہی جائزہے اور صرف اسلامی نکاح کے بعد ہی وہ دونوں میاں بیوی ہیں۔

    سوال:

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک مسلم لڑکا ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، وہ لڑکی اسلام لانے کے لیے تیار ہے، اور اسلامی شریعت کے مطابق شادی کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بات اپنے گھر والوں پر افشا نہیں کرنا چاہتی ہے، اس لڑکی کے والدین اسلامی نکاح کے بعد ان دونوں کا نکاح عیسائی رسومات کے مطابق کرانا چاہتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لڑکا اسلامی طریقے سے نکاح کرنے کے بعد صرف لڑکی کے والدین کی خاطر عیسائی طریقے کے مطابق نکاح کرسکتاہے؟ ان دونوں کا ذہن بالکل صاف ہے کہ صرف اسلامی نکاح ہی جائزہے اور صرف اسلامی نکاح کے بعد ہی وہ دونوں میاں بیوی ہیں۔

    جواب نمبر: 2502

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 709/ ل= 709/ ل

     

    اگر وہ لڑکی اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسلام قبول کرلے تو آپ اسلام کے مطابق دو گواہوں کی موجودگی میں اس سے نکاح کرسکتے ہیں، علانیہ طور پر شادی کرنا ضروری نہیں، شادی ہوجانے کے بعد عیسائی طریقے کے مطابق شادی کرنا درست نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ عند النکاح وہ ایسے الفاظ کہلوادیں جس سے آدمی ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند