• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 2281

    عنوان: زندگی میں ایک بارمیری ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی،اس نے میر ے ساتھ شادی کر نے کایقین دلایا تھا۔ہم اپنے والدین کے علم کے بغیر ایک دوسرے سے مل تے تھے۔میں اس کے ساتھ شوہر کی طرح پیش آتا تھا۔ ہم اکثر برہنہ ہوجاتے تھے ، صرف ایک مرتبہ اس حالت میں جسمانی تعلق کر نے کی کوشش کی،میں نے اس کی مرضی سے اس کے فرج میں اپنا رأس الذکرداخل کیاتھا۔اب اپنے والدین کے دباؤ کی وجہ سے اس نے مجھ سے شادی سے کرنے سے انکار کردیاہے اور دوسرے لڑکے سے شادی کر نے جارہی ہے۔ آپ اس تعلق کے با رے میں کیا فرمائیں گے؟ اسلام کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی بکارت کھوچکی ہے۔وہ اپنے ہونے والے شوہرسے کچھ نہیں کہے گی۔ براہ کرم بتائیں کہ میں غلطی پر ہوں یا وہ؟

    سوال:

    زندگی میں ایک بارمیری ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی،اس نے میر ے ساتھ شادی کر نے کایقین دلایا تھا۔ہم اپنے والدین کے علم کے بغیر ایک دوسرے سے مل تے تھے۔میں اس کے ساتھ شوہر کی طرح پیش آتا تھا۔ ہم اکثر برہنہ ہوجاتے تھے ، صرف ایک مرتبہ اس حالت میں جسمانی تعلق کر نے کی کوشش کی،میں نے اس کی مرضی سے اس کے فرج میں اپنا رأس الذکرداخل کیاتھا۔اب اپنے والدین کے دباؤ کی وجہ سے اس نے مجھ سے شادی سے کرنے سے انکار کردیاہے اور دوسرے لڑکے سے شادی کر نے جارہی ہے۔ آپ اس تعلق کے با رے میں کیا فرمائیں گے؟ اسلام کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی بکارت کھوچکی ہے۔وہ اپنے ہونے والے شوہرسے کچھ نہیں کہے گی۔ براہ کرم بتائیں کہ میں غلطی پر ہوں یا وہ؟

    جواب نمبر: 2281

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوى: ۵۰۳/م=۵۰۰/م

     

    شرعی طریقے پر نکاح سے پہلے اجنبی لڑکے اور لڑکی کا آپس میں ایک دوسرے سے ملنا، محبت کرنا، ناجائز ہے، یہاں تک کہ اندیشہ فتنہ کی وجہ سے ایک دوسرے کو سلام کرنا اور بغیر شرعی ضرورت کے گفتگو کرنا بھی ممنوع ہے، بناءً علیہ شادی سے قبل دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ زن و شوہر کی طرح پیش آنا اور جسمانی تعلق قائم کرنا حرام و ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے۔ لڑکی کی طرف سے شادی کرنے کا صرف یقین دلانے کی وجہ سے اس کے ساتھ زوجہ کی طرح معاملہ کرنا قطعاً درست نہ تھا، اب معافی کی صورت یہی ہے کہ جو ہوا اس سے سچی توبہ کریں، اور آئندہ اس لڑکی کا خیال دل سے نکال دیں اور شرعی طور پر کسی سے نکاح کرلیں اور مذکورہ لڑکی جس کے ساتھ آپ نے جسمانی تعلق کرنے کی کوشش کی اور بالآخر ناجائز فعل کا ارتکاب کیا، اگر بدکاری کا یہ واقعہ پہلی بار ہوا تھا اور لوگوں میں مشہور نہیں ہوا تھا تو وہ لڑکی شرعاً باکرہ کے حکم میں ہے، اگرچہ فعل مذکور کی وجہ سے پردہٴ بکارت زائل ہوچکا ہو کما فی الدر المختار والشامی۔ غلطی دونوں کی ہے اس غلطی اور گناہ سے دونوں پر توبہ لازم ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند