• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 20931

    عنوان:

    میری جلد ہی شادی ہونے والی ہے۔ میں اسلامی تعلیم کے مطابق بیو ی سے مباشرت کرنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، درج ذیل باتوں کے بارے میں مشورہ دیں۔ (۱) اپنی بیوی کی زبان کو چوس سکتا ہوں؟ (۲) کیا اس کی شرمگاہ کو چاٹ سکتا ہوں؟ ّ(اگر نہیں، تو کیا یہ حرام ہے یا مکروہ؟ اور اگر مکروہ ہے توپھر حرام اور مکروہ میں کیا فرق ہے؟) (۳ ) کیا ہم دونوں ایک ساتھ ننگے سوسکتے ہیں؟ لیکن پردہ ( چادر) میں مکمل طورپر کھل کر نہیں۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔

    سوال:

    میری جلد ہی شادی ہونے والی ہے۔ میں اسلامی تعلیم کے مطابق بیو ی سے مباشرت کرنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، درج ذیل باتوں کے بارے میں مشورہ دیں۔ (۱) اپنی بیوی کی زبان کو چوس سکتا ہوں؟ (۲) کیا اس کی شرمگاہ کو چاٹ سکتا ہوں؟ ّ(اگر نہیں، تو کیا یہ حرام ہے یا مکروہ؟ اور اگر مکروہ ہے توپھر حرام اور مکروہ میں کیا فرق ہے؟) (۳ ) کیا ہم دونوں ایک ساتھ ننگے سوسکتے ہیں؟ لیکن پردہ ( چادر) میں مکمل طورپر کھل کر نہیں۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔

    جواب نمبر: 20931

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 593=482-4/1431

     

    (۱) اتفاقاً چوس لینے میں کوئی حرج نہیں۔

    (۲) یہ جانوروں کا کام ہے۔

    (۳) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میری شرم گاہ نہیں دیکھی نہ میں نے کبھی آپ کی شرم گاہ دیکھی۔ حیاء او روقار کے ساتھ رہنا چاہیے جس قدر شرم گاہ کھولنے کی ضرورت ہو اسی قدر کھولنا چاہیے، اگرچہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھنے کی اجازت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند