• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 20265

    عنوان:

    چار سال پہلے میری شادی ہوئی تھی۔ میری ماں کی دوسری شادی تھی، میری پرورش اپنے دوسرے باپ کے گھر میں ہوئی ہے۔ میں اپنے اصلی باپ کو نہیں جانتاہوں اور ہمیشہ میرے نام کے ساتھ میرے دوسرے باپ کا نام لگتا ہے، اور نکاح بھی انہیں کے نام سے ہوا ہے۔ اب میرے انکل کہتے ہیں کہ تمہارا نکاح نہیں ہوا۔میری شادی کو چار سال بھی ہوگئے ہیں اور میرے دو بچے بھی ہیں ۔ براہ کرم، بتائیں کہ میں کیا کروں؟میرا نکاح جائز ہے یا نا جائز؟

    سوال:

    چار سال پہلے میری شادی ہوئی تھی۔ میری ماں کی دوسری شادی تھی، میری پرورش اپنے دوسرے باپ کے گھر میں ہوئی ہے۔ میں اپنے اصلی باپ کو نہیں جانتاہوں اور ہمیشہ میرے نام کے ساتھ میرے دوسرے باپ کا نام لگتا ہے، اور نکاح بھی انہیں کے نام سے ہوا ہے۔ اب میرے انکل کہتے ہیں کہ تمہارا نکاح نہیں ہوا۔میری شادی کو چار سال بھی ہوگئے ہیں اور میرے دو بچے بھی ہیں ۔ براہ کرم، بتائیں کہ میں کیا کروں؟میرا نکاح جائز ہے یا نا جائز؟

    جواب نمبر: 20265

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 295=53tb-3/1431

     

    نکاح کے وقت اصلی باپ کا نام ولدیت میں لینا چاہیے، سوتیلے باپ کا نام لینا جائز نہیں، لیکن نکاح کے وقت وہی معروف ومتعین ہے اور اسی نے نکاح کو قبول کیا ہے تو نکاح صحیح ہوگیا اور سوتیلے باپ کا نام لغو اور بے کار رہا۔ آپ کوئی فکرنہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند