• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 17418

    عنوان:

    ایک لڑکی ہے جو کہ گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر ہے اس کی شادی کی میرے ساتھ پیشکش ہے ۔میں ایک گورنمنٹ کمپنی میں بطور اکاؤنٹ آفیسر کے کام کررہا ہوں۔میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ کیا اس صورت میں جب کہ میں کما رہا ہوں وہ لڑکی اپنی نوکری جاری رکھ سکتی ہے؟ میں نے پورے طور پر اس لڑکی سے شادی کرنے سے منع کردیا کیوں کہ وہ اپنی نوکری چھوڑنا نہیں چاہتی ہے۔ برائے کرم مجھ کواسلام کی روشنی میں بتائیں کہ کیا یہ صحیح فیصلہ ہے یا نہیں؟

    سوال:

    ایک لڑکی ہے جو کہ گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر ہے اس کی شادی کی میرے ساتھ پیشکش ہے ۔میں ایک گورنمنٹ کمپنی میں بطور اکاؤنٹ آفیسر کے کام کررہا ہوں۔میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ کیا اس صورت میں جب کہ میں کما رہا ہوں وہ لڑکی اپنی نوکری جاری رکھ سکتی ہے؟ میں نے پورے طور پر اس لڑکی سے شادی کرنے سے منع کردیا کیوں کہ وہ اپنی نوکری چھوڑنا نہیں چاہتی ہے۔ برائے کرم مجھ کواسلام کی روشنی میں بتائیں کہ کیا یہ صحیح فیصلہ ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 17418

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):1834=202tb-11/1430

     

    شادی کرنے کے بعد بیوی شوہر کے تابع ہوتی ہے، جس طرح شوہر کہے اسی طرح اسے رہنا ہوگا۔ اگر ملازمت چھوڑنے کو کہے تو اسے ملازمت چھوڑنی ہوگی۔ شادی کے بعد بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہوجاتے ہیں۔ اسے ملازمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے اس لڑکی سے شادی کو منع کردیا، یہ آپ کا عمل بالکل صحیح اور شریعت کے مطابق رہا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند