• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 173648

    عنوان: چند سالوں كے لیے نكاح كرنا

    سوال: اسلام میں کنٹریکٹ میریج حلال ہے یا نہیں؟ جیسے کہ کوئی آدمی اس کی پہلی شادی ہوچکی ہے اب وہ کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہتاہے ، لیکن یہ نکاح کچھ ہی سال تک رہے گا جیسے دو یا پانچ سال تک اور اس نکاح میں لڑکی کی رضا بھی شامل ہے، اس طرح کے نکاح میں مہر تو فکس ہے ، لیکن دونوں کو بچہ نہیں چاہئے، یا اگر اولاد بھی ہوجاتی ہے تو اپنی سمجھ سے دونوں جب الگ ہوں گے تو بچہ نہیں بھی لے لیں گے، تو اس طرح کی شرط پر نکاح اگر کوئی کرتا ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 173648

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 118-93/M=02/1441

    کچھ مدت کے لئے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، چاہے لڑکی کی رضا شامل ہو، یہ مقاصد نکاح کے منافی ہے۔ نکاح ایک دائمی رشتہ ہوتا ہے لہٰذا اس میں کسی متعینہ مدت کی شرط لگانا غلط ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند