• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 16452

    عنوان:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جب اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرتا ہے تب وہ قصداً اپنی ازار میں ہی انزال کرتا ہے (منی، مذی ازار ہی میں نکالتا ہے)۔ تو کیا یہ شخص اپنے اس کام پر گناہ گار ہے؟ یہ کام جو قصداً کیا گیا ہے مکروہ ہے؟ اس میں کچھ کراہت ہے یا حرام ہے؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جب اپنی بیوی سے ہمبستری کا ارادہ کرتا ہے تب وہ قصداً اپنی ازار میں ہی انزال کرتا ہے (منی، مذی ازار ہی میں نکالتا ہے)۔ تو کیا یہ شخص اپنے اس کام پر گناہ گار ہے؟ یہ کام جو قصداً کیا گیا ہے مکروہ ہے؟ اس میں کچھ کراہت ہے یا حرام ہے؟

    جواب نمبر: 16452

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):1666=1515-10/1430

     

    قصداً ہم بستری کے وقت اپنے ازار میں انزال کرنا یہ منی کی اضاعت ہے، اور عزل کے حکم میں ہے، یہ فعل مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند