• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 16059

    عنوان:

    میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میری شادی میرے شوہر کے ساتھ درست ہے؟ میں نے اپنا نکاح گواہوں کے سامنے کیا لیکن میرا ولی موجود نہیں تھا کیوں کہ میرے گھر والے اس سے خوش نہیں تھے۔ انھوں نے میری خواہش اور میری پسند کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ میرے شوہر سنی مسلم ہیں، اور میں بھی سنی مسلم ہوں۔میں یقین سے نہیں جانتی ہوں کہ میرے والد نے اس کے بارے میں کیسا محسوس کیا کیوں کہ وہ بہت زیادہ بیمار تھے اور وہ میرے بھائیوں او رمیری ماں سے خوف زدہ تھے او روہ ان کی ہی بات سنتے تھے صرف ان کو خوش رکھنے کے لیے اس لیے مجھے یقین سے نہیں معلوم کہ انھوں نے کیسا محسوس کیا کیوں کہ وہ لوگ مجھ کو واقعی میرے والد سے اس کے بارے میں جس سے میں شادی کرنا چاہتی ہوں بات نہیں کرنے دیتے۔ مجھے بالکل یقین ہے کہ اگر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ تنہائی میں بیٹھتی اور ان سے کہتی کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں .......

    سوال:

    میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میری شادی میرے شوہر کے ساتھ درست ہے؟ میں نے اپنا نکاح گواہوں کے سامنے کیا لیکن میرا ولی موجود نہیں تھا کیوں کہ میرے گھر والے اس سے خوش نہیں تھے۔ انھوں نے میری خواہش اور میری پسند کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ میرے شوہر سنی مسلم ہیں، اور میں بھی سنی مسلم ہوں۔میں یقین سے نہیں جانتی ہوں کہ میرے والد نے اس کے بارے میں کیسا محسوس کیا کیوں کہ وہ بہت زیادہ بیمار تھے اور وہ میرے بھائیوں او رمیری ماں سے خوف زدہ تھے او روہ ان کی ہی بات سنتے تھے صرف ان کو خوش رکھنے کے لیے اس لیے مجھے یقین سے نہیں معلوم کہ انھوں نے کیسا محسوس کیا کیوں کہ وہ لوگ مجھ کو واقعی میرے والد سے اس کے بارے میں جس سے میں شادی کرنا چاہتی ہوں بات نہیں کرنے دیتے۔ مجھے بالکل یقین ہے کہ اگر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ تنہائی میں بیٹھتی اور ان سے کہتی کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں تو میرے والد صاحب راضی ہوجاتے، لیکن میری ماں اور بھائی حتی کہ مجھ کو گھر میں بھی ایسا نہ کرنے دیتے تھے وہ لوگ مجھ کو پورے طور پر نظر انداز کرتے ہیں اور کبھی بھی میری خواہش کو نہیں سنا۔ میرے بھائی ہر وقت میرے تئیں بہت ظالم تھے اس لیے میری کوئی پسند نہیں تھی اس لیے مجھے بغیر اپنے ولی کی موجودگی کے شادی کرنا پڑا۔ میرے گھر والوں کے ذہن میں بھی کوئی او رمرد نہیں تھا جس سے وہ میری شادی کرتے۔ وہ لوگ میری خواہش کا انکار کررہے تھے کیوں کہ وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ اگر میں اپنے شوہر سے شاد ی نہ کرتی تو شاید میری کبھی بھی کسی سے شادی نہ ہوتی کیوں کہ میرے چار بھائی ہیں اور ایک بہن اور وہ سب تیس سے چالیس سال کے درمیان میں ہیں او ران میں سے کوئی بھی شادی شدہ نہیں ہے اور ان میں سے کوئی شادی کرنا بھی نہیں چاہتاہے، تو غالباً میں بھی ویسے ہی رہ جاتی اگر میں گھر پر رہتی اور ان کی بات مانتی۔حتی کہ اگر میرے والد صاحب شادی پر تیار ہوجاتے لیکن میرے بھائی ان کو نکاح میں موجود نہ ہونے دیتے، لیکن میں نہیں جانتی ہوں کہ انھوں نے کیسا محسوس کیا اور ان کا دوسال پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ جب ان کا انتقال ہوگیا تو مجھ کو میری آنٹی کا نمبر ملا او رمیں نے اپنے انکل سے رابطہ کیا جو کہ میرے والد کے بھائی ہیں۔ میں اپنے والد کی بہن کے رابطہ میں ہوں چپکے سے، میری ماں او ربھائی اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں، اگر ان کو اس کے بارے میں معلوم ہوجائے تو وہ لوگ مجھ کو اور میری آنٹی کو تنہا نہ چھوڑیں گے۔میری آنٹی اور میرے انکل جو کہ میرے والد کے حقیقی بھائی ہیں دونوں نے مجھ سے کہا ہے کہ و ہ مجھ سے خوش ہیں۔ میرے انکل کہتے ہیں کہ میں امید کرتاہوں کہ یہ خوش گوار شادی ہے او ریہ کہ وہ میرے لیے والد جیسے ہیں کیوں کہ وہ میرے والد کے بھائی ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے صرف دو سال پہلے ان سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا جب میرے والد صاحب کا دو سال پہلے انتقال ہوا۔اور میرا نکاح پانچ سال پہلے ہوا اس لیے نکاح کے وقت میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا، کیوں کہ میرے پاس ان کا پتہ اور نمبر نہیں تھا لیکن میں اپنی آنٹی سے فون پر مسلسل بات کرتی ہوں، اور وہ ہمیشہ مجھ کو دعائیں دیتی ہیں اور اسی طرح میرے انکل بھی جب میں نے ان سے بات کی۔میرے گھروالے نہیں جانتے ہیں کہ میرا ان سے رابطہ ہے اگر ان کو معلوم ہوجائے تو مصیبت پیدا کریں گے۔ برائے کرم مجھ کو بتائیں کہ کیا میری شادی درست ہے کیوں کہ میرے گھر والے میرے بارے میں بالکل نہیں سوچتے ہیں؟ میں فکر مند ہوگئی ہوں کیوں کہ میں نے کہیں پڑھا کہ اگر والدین راضی نہیں ہیں تو شادی درست نہیں ہوگی۔ اگر یہ درست نہیں ہے تو کیا میں اس کو درست کرنے کے لیے کچھ کرسکتی ہوں؟ والسلام

    جواب نمبر: 16059

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1494=289tl/1430

     

    اگر آپ نے اپنا نکاح گواہوں کی موجودگی میں کیا تھا تو آپ کا نکاح درست ہوگیا تھا، البتہ والدین کی رضامندی اور ان کے مشورہ سے شادی کرنا شرعاً محمود ومستحسن ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند