• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 151090

    عنوان: كیا لڑکی والوں کے لیے شادی کے موقع پر بارات کی دعوت کرنا سنت کے خلاف ہے

    سوال: حضرت مفتی صاحب! میں ایک معاملے میں بہت پریشان ہوں اس معاملے میں آپ کی رہنمائی چاہئے۔ میرے پیر و مرشد عارف بلا حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نے اپنے ایک وعظ میں حضرت مولانا یوسف لدھیانوی صاحب کے حوالے سے فرمایا کہ لڑکی والوں کے لیے شادی کے موقع پر بارات کی دعوت کرنا سنت کے خلاف ہے، اب جب کہ حضرت والا اور حضرت مولانا یوسف لدھیانوی دونوں بزرگوں کی دنیا سے رحلت ہو چکی ہے ، حضرت لدھیانوی کے شہرہٴ آفاق کتاب آپ کے مسائل اور ان کا حل میں (اخلاقیات کے باب میں) یہ مسئلہ اسے اس طرح ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ حضرت والا کے ایک خلیفہ جو مفتی بھی ہیں ان کا بہت اصرار ہے کہ اس کتاب میں یہ لفظ تبدیل کیا جائے اور لکھا جائے کہ لڑکی والوں کا دعوت کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ اب آپ مشورہ دیں کہ کیا کرنا چاہئے جب کہ اس مفتی صاحب نے اپنی ایک مجلس میں یہ بھی فرمایا ہے کہ میری اگر بیٹی شادی کی عمر کو ہوتی تو میں اس کا بارات کا کھانا کسی گراوٴنڈ میں کرتا۔ براہ کرم جلد از جلد اس معاملے کا حل فرمادیں تاکہ بندے کی پریشانی دور ہو۔

    جواب نمبر: 151090

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 814-744/sd=8/1438

    شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا دعوت کرنا نہ مسنون ہے اور نہ مستحب ؛ لیکن حرا م اور ناجائز بھی نہیں ہے ؛ ہاں ایک مباح اور جائز درجہ کی چیز ہے ،لہذا حسب موقع لڑکے والوں کے ساتھ اپنے کچھ خاص متعلقین کو مدعو کر نے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کو لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے اور اس کو مستقل دعوت مسنونہ کا درجہ نہ دیا جائے ، یہ تو مسئلہ کا اصل شرعی حکم ہے اور حضرت مفتی صاحب کے فتاوی میں لڑکی والوں کی طرف سے دعوت سے متعلق ہم کو یہ عبارت ملی ہے : لڑکی والوں کی طرف سے شادی کی دعوت سنت سے ثابت نہیں، اگر جمع ہونے والے مہمانوں کے لیے کھانا تیار کر لیا جاتا ہے ، تو اس کا کھانا جائز ہے اھ( آپ کے مسائل اور اُن کا حل : ۳۱۴/۶،بعنوان : نکاح کے وقت لڑکی والوں کا دعوت کرنا، ط: مکتبہ لدھیانوی ) سوال میں حضرت مفتی صاحب کی طرف جو عبارت منسوب کی ہے ، اُس کی نقل مسلک کی جائے ، اس کے بعد ہی اس سلسلے میں کوئی بات لکھی جاسکتی ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند