• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 149587

    عنوان: شادی کے لیے والدین سے لڑائی جھگڑا کرنا

    سوال: میری عمر ۳۲/ سال اور چارماہ ہے اور میرے بھائی کی عمر ۳۴/ سال ہے، والد صاحب میرے بڑے بھائی کے لیے ایم بی بی ایس (MBBS) لڑکی ڈھونڈ رہے ہیں جس کی وجہ سے شادی میں دیر ہو رہی ہے، دو تین رشتہ بی ڈی ایس (BDS) کے بہت اچھے آئے اور ماں باپ تیار تھے لیکن بھائی نے منع کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ مجھے تو ایم بی بی ایس لڑکی ہی چاہئے۔ میں گھر والوں کو کئی سال سے سمجھا رہا ہوں کہ شادی میں تاخیر کرنا اچھی چیز نہیں، اور میرے لیے اس کی وجہ سے گناہوں سے بچنا بہت مشکل ہو رہا ہے لیکن ماں باپ میری شادی نہیں کر رہے ہیں، میں مسلسل چار پانچ سالوں سے انہیں اس کے بارے میں نرم لہجہ میں سمجھایا، لیکن ادھر کچھ دنوں سے میں اپنے اوپر صبرو تحمل نہیں رکھ پایا مایوسی اور ناکامی کے غصہ کی وجہ سے، اور ان سے سخت کلامی کی، اب وہ دلیل دے رہے ہیں کہ تمہاری قسمت میں ابھی شادی نہیں لکھی ہے، اور جب اللہ کی مرضی ہوگی تو ایسی لڑکی جو تمہاری پچھلی پسلی سے نکلی ہوگی ملے گی، اور اپنے آپ شادی ہو جائے گی، پھر میں نے ان سے کہا کہ اپنی لاپرواہی کا الزام اللہ پر کیوں لگا رہے ہیں، اللہ کی مرضی تبھی ہو جاتی ہے جب لڑکا بالغ ہو جاتا ہے ورنہ اللہ زنا کرنے پر پکڑ نہ کرتا، میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ جس طرح اللہ سب کو ہدایت دینا چاہتا ہے لیکن جو ہدایت نہ قبول کرے تو اس کا قصور، ورنہ اللہ عذاب نہ دیتا۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ میرا بھی یقین ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا لیکن یہاں کمی آپ کی طرف سے ہے کہ آپ نے شادی کے لیے دیر سے کوشش کرنا شروع کیا اور پھر ایم بی بی ایس کے لالچ میں پڑگئے، پھر الزام اللہ کی مرضی پر کیوں لگاتے ہیں؟ برائے مہربانی مجھے مشورہ دیں:۔ (۱) کیا ماں باپ ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ اور مجھے اپنے عقیدے کے لیے توبہ کرنی چاہئے؟ کیا اس کے لیے کچھ کفارہ بھی ہے؟ (۲) کیا ماں باپ کے ساتھ سخت کلامی اور نافرمانی ہوئی جب کہ وہ میری شادی کا بندوبست نہیں کررہے ہیں اور میرے لیے گناہوں سے بچنا مشکل ہو گیا ہے؟ اگر نافرمانی ہے تو کیا کچھ کفارہ بھی ہوگا یا صرف اللہ سے توبہ کرلینا کافی ہے؟ کیا ماں باپ سے معافی مانگنا ہوگا یا صرف اللہ سے توبہ کرنا کافی ہوگا؟ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 149587

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 777-702/H=7/1438

    ماں باپ سے تکرار اور گفتگو میں کچھ تلخی ہوگئی اس کے لیے تو ان سے معافی تلافی کرلیں اور حکمت وبصیرت سے یہ کہہ دیں کہ مناسب رشتہ تلاش کرکے جلد از جلد آپ نکاح کردیں ورنہ مجبوراً پھر میں کوئی مناسب قدم اٹھاکر نکاح کرلوں گا اور آپ دونوں کو راضی رکھنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا، خدمت سے بھی جو ہوسکے گا دریغ نہ کروں گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند