• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 14531

    عنوان:

    میں ہمیشہ آپ کی ویب سائٹ پڑھتی ہوں۔ مگر پہلی دفعہ سوال پوچھ رہی ہوں۔ برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے گا۔ جناب میں کراچی کے ایک لڑکیوں کے کالج میں بطور لیکچررکے کام کرتی ہوں۔ ہمارے کالج میں ایک وزیٹنگ فیکلٹی ہر ہفتہ دو لیکچر لینے کے لیے آتے ہیں۔ وہ بہت ہی نیک انسان ہیں اور ہم دونوں ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے ہی مجھے اس ویب سائٹ کے بارے میں بتایا تھا تب سے میں ہمیشہ اس کے ذریعہ دینی معلومات حاصل کرتی ہوں۔ وہ ہمیشہ مجھے بیانوں کی کیسٹیں، کتابیں وغیرہ پڑھنے کے لیے دیتے رہتے ہیں۔ او رجب بھی ملتے ہیں مجھے اپنے لیے دعا کرنے کے لیے کہتے رہتے ہیں۔ تو کیا میں ان کے لیے دعا کرسکتی ہوں؟ انھوں نے مجھے کئی دفعہ اشارہ دیا ہے کہ میرے گھر والے جاکر ان کے گھروالوں سے ملیں اور شادی کی بات کریں۔ لیکن میرے گھر والے پرانے خیالوں کے ہیں او روہ میری شادی ہماری برادری میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ کیا میں امی ابا کی اجازت کے بغیر ان سے شادی کرسکتی ہوں؟ کیاہماری شادی جائز ہوگی؟ برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے گا۔

    سوال:

    میں ہمیشہ آپ کی ویب سائٹ پڑھتی ہوں۔ مگر پہلی دفعہ سوال پوچھ رہی ہوں۔ برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے گا۔ جناب میں کراچی کے ایک لڑکیوں کے کالج میں بطور لیکچررکے کام کرتی ہوں۔ ہمارے کالج میں ایک وزیٹنگ فیکلٹی ہر ہفتہ دو لیکچر لینے کے لیے آتے ہیں۔ وہ بہت ہی نیک انسان ہیں اور ہم دونوں ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے ہی مجھے اس ویب سائٹ کے بارے میں بتایا تھا تب سے میں ہمیشہ اس کے ذریعہ دینی معلومات حاصل کرتی ہوں۔ وہ ہمیشہ مجھے بیانوں کی کیسٹیں، کتابیں وغیرہ پڑھنے کے لیے دیتے رہتے ہیں۔ او رجب بھی ملتے ہیں مجھے اپنے لیے دعا کرنے کے لیے کہتے رہتے ہیں۔ تو کیا میں ان کے لیے دعا کرسکتی ہوں؟ انھوں نے مجھے کئی دفعہ اشارہ دیا ہے کہ میرے گھر والے جاکر ان کے گھروالوں سے ملیں اور شادی کی بات کریں۔ لیکن میرے گھر والے پرانے خیالوں کے ہیں او روہ میری شادی ہماری برادری میں ہی کرنا چاہتے ہیں۔ کیا میں امی ابا کی اجازت کے بغیر ان سے شادی کرسکتی ہوں؟ کیاہماری شادی جائز ہوگی؟ برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے گا۔

    جواب نمبر: 14531

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1536=1224/ھ

     

    نیک ہونا الگ بات ہے اور شادی کا معاملہ اس سے جدا ہے، پہلے سے اس طرح اجنبی آدمی سے روابط قائم کرلینا جائز نہیں، نکاح میں بہت سے امور ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے، دونوں کے عقائد صحیح ہوں، شرک کفر ارتداد وغیرہ امور قبیحہ میں سے کچھ نہ ہو، محض عارضی جذبات وتعلقات کی بنیاد پر اقدام نہ کریں، یہ سب امور ملحوظ رکھ کر ماں باپ ودیگر اولیاء سے مشورہ کرکے نکاح سے متعلق معاملات کو طے کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند