• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 12952

    عنوان:

    میرا سوال بچپن میں نکاح کے بارے میں ہے۔ میرے ایک دوست نے اپنی لڑکی کی شادی اس کے بچپن میں کردی جب وہ صرف پانچ یا چھ سال کی تھی۔ اس کی لڑکی نے اپنے شوہر کو پانی بھی پلایا۔ اب وہ اپنے شوہر کے پاس جانا نہیں چاہتی ہے۔ وہ اپنی بچپن کی شادی کو نہیں مانتی ہے۔ وہ دوسرے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ کیا وہ بغیر طلاق اور عدت کے کسی دوسرے شخص سے شادی کرسکتی ہے؟

    سوال:

    میرا سوال بچپن میں نکاح کے بارے میں ہے۔ میرے ایک دوست نے اپنی لڑکی کی شادی اس کے بچپن میں کردی جب وہ صرف پانچ یا چھ سال کی تھی۔ اس کی لڑکی نے اپنے شوہر کو پانی بھی پلایا۔ اب وہ اپنے شوہر کے پاس جانا نہیں چاہتی ہے۔ وہ اپنی بچپن کی شادی کو نہیں مانتی ہے۔ وہ دوسرے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ کیا وہ بغیر طلاق اور عدت کے کسی دوسرے شخص سے شادی کرسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 12952

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1007=950/ب

     

    جب باپ نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح کیا ہے تو لڑکی کو یہ نکاح توڑنا یا تو ڑوانا جائز نہیں، اس کے لیے انکار کرنا بلاعذر شرعی جائز نہیں، بچپن کی شادی کو نہ ماننا لڑکی کے لیے جائز نہیں۔ یہ اپنے شوہر کی بیوی ہے۔اس کے نکاح میں ہے اور رہے گی، جب تک شوہر اس کو طلاق نہ دے، کسی دوسرے کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی ہے: وأما نکاح منکوحة الغیر ومعتدتہ لم یقل أحد بجوازہ فلم ینعقد أصلاً (شامي: ۲/۳۵۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند