• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 12887

    عنوان:

    میں ایک طالب علم ہوں میری عمر بائیس سال ہے اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہوں اورشادی کرنے کی حالت میں نہیں ہوں۔روزانہ میرے ذہن میں نفسانی خواہشات آتی ہیں میں ان پر قابو نہیں کرپاتا ہوں۔ میں نے دو مہینہ روزہ رکھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے آخر کار میں نے ایک ڈاکٹر سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے احساسات پرقابو پانے کے لیے دوا لی۔ کیا اسلام میں جنسی خواہش کو کم کرنے کے لیے دوا یا انجکشن کا استعمال کرنا جائز ہے؟

    سوال:

    میں ایک طالب علم ہوں میری عمر بائیس سال ہے اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہوں اورشادی کرنے کی حالت میں نہیں ہوں۔روزانہ میرے ذہن میں نفسانی خواہشات آتی ہیں میں ان پر قابو نہیں کرپاتا ہوں۔ میں نے دو مہینہ روزہ رکھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے آخر کار میں نے ایک ڈاکٹر سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے احساسات پرقابو پانے کے لیے دوا لی۔ کیا اسلام میں جنسی خواہش کو کم کرنے کے لیے دوا یا انجکشن کا استعمال کرنا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 12887

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 966=819/ھ

     

    حرام میں مبتلا ہونے کا ڈر ہو اور دوا مضر نہ ہو تو استعمال کرنا جائز بلکہ بعض اوقات ضروری ہے۔ویسے آپ کی عمر شادی کی ہوچکی ہے اگر بیوی کے نان ونفقہ کا انتظام کرسکتے ہوں تو شادی کرنے کی فکر کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند