• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 12624

    عنوان:

    سلام مفتی صاحب ! ایک مسلہ پوچھنا ھے-امید ھے کہ آپ ضرور رہنماہی فرمایں گے- میرے دوست نے ایک لڑکی سے نکاح(کفو میں) کیا- میرا دوست اور لڑکی دونوں سکول ٹیچر تھے-دونوں ایک دوسرے کو دینی ھمآہنگی سے پسند کرتے تھے-( میرے دوست نے نکاح سے پہلے آنے والے تمام مشکلات کا بھی لڑکی کو بتایا لڑکی نے ھر صورت میں ساتھ نہ چھوڑنے کا کہا-) لڑکی کہ گھر والے دولت کی لالچ میں اس کا نکاح زبردستی کسی سے اور سے کرنا چاھتے تھے اور وہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ بھی تھا-اور اس نے لڑکے نے پہلا نکاح گھر والوں کی مرضی کہ خلاف کیا تھا-پانچ سال کہ بعد اس نے پہلی لڑکی کو چھوڑ کر گھر واپس آیا-)لڑکی چھ (٦) ماہ سے گھر والوں سے کہتی رھی کہ وہاں شادی نہیں کرنا چاھتی-یہاں تک کہ اس لڑکے کو خود تین مرتبہ فون کر کہ کہا-کہ میں آپ کہ ساتھ شادی نہیں کرنا اور میرے ساتھ زبر دستی کی جا رھی ھے- لڑکی نے اپنی دوستوں کہ ذریعے اس لڑکے کہ گھر بھی پیغام پہنچا یا-مگر وہ نا مانے- چناچہ اس لڑکی نے میرے دوست کہ ساتھ عدالت سے اجازت لیکر باقاعدہ نکاح کر لیا-مولوی صاحب نے دو گواھوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور نکاح کہ بعد لڑکی واپس والدین کہ گھر چلی گی-اس کہ والدین پھر بھی اسی لڑکے کہ ساتھ نکاح کرنا چاھتے تھے-جس کی وجہ دس دن کہ بعد وہ لڑکی دارلمان چلی گی-اس کہ بعد اس لڑکی کہ والدین میرے دوست کہ پاس آے اور لوگوں کی مدد سے درخواست کی-کہ دارلمان سے لڑکی کو واپس لا کر دیں-...

    سوال:

    سلام مفتی صاحب ! ایک مسلہ پوچھنا ھے-امید ھے کہ آپ ضرور رہنماہی فرمایں گے- میرے دوست نے ایک لڑکی سے نکاح(کفو میں) کیا- میرا دوست اور لڑکی دونوں سکول ٹیچر تھے-دونوں ایک دوسرے کو دینی ھمآہنگی سے پسند کرتے تھے-( میرے دوست نے نکاح سے پہلے آنے والے تمام مشکلات کا بھی لڑکی کو بتایا لڑکی نے ھر صورت میں ساتھ نہ چھوڑنے کا کہا-) لڑکی کہ گھر والے دولت کی لالچ میں اس کا نکاح زبردستی کسی سے اور سے کرنا چاھتے تھے اور وہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ بھی تھا-اور اس نے لڑکے نے پہلا نکاح گھر والوں کی مرضی کہ خلاف کیا تھا-پانچ سال کہ بعد اس نے پہلی لڑکی کو چھوڑ کر گھر واپس آیا-)لڑکی چھ (٦) ماہ سے گھر والوں سے کہتی رھی کہ وہاں شادی نہیں کرنا چاھتی-یہاں تک کہ اس لڑکے کو خود تین مرتبہ فون کر کہ کہا-کہ میں آپ کہ ساتھ شادی نہیں کرنا اور میرے ساتھ زبر دستی کی جا رھی ھے- لڑکی نے اپنی دوستوں کہ ذریعے اس لڑکے کہ گھر بھی پیغام پہنچا یا-مگر وہ نا مانے- چناچہ اس لڑکی نے میرے دوست کہ ساتھ عدالت سے اجازت لیکر باقاعدہ نکاح کر لیا-مولوی صاحب نے دو گواھوں کی موجودگی میں نکاح کیا اور نکاح کہ بعد لڑکی واپس والدین کہ گھر چلی گی-اس کہ والدین پھر بھی اسی لڑکے کہ ساتھ نکاح کرنا چاھتے تھے-جس کی وجہ دس دن کہ بعد وہ لڑکی دارلمان چلی گی-اس کہ بعد اس لڑکی کہ والدین میرے دوست کہ پاس آے اور لوگوں کی مدد سے درخواست کی-کہ دارلمان سے لڑکی کو واپس لا کر دیں-لڑکی ھمارے کہنے پر نہی آے گی-ھم نکاح کو قبول کرتے ھیں ھماری عزت بچاو ابھی لوگوں کو نہی پتہ چلا کہ وہ گھر سے چلی گی ھے- چناچہ آپ لڑکی کو واپس لا کر دیں ھم قرآن کا حلف دیں گے-کہ رخصتی میرے دوست کہ ساتھ کر دیں گے-لڑکی دارلمان سے واپسی پر دو دن میرے دوست کہ ساتھ آباد بھی رھی- چناچہ لڑکی کو قرآن کہ خلف پر ایک ھفتے کہ اندر رخصتی کا واعدہ کر کی لوگوں کی موجودگی میں لے گے-اور اس معاملے میں میرے دوست کی ایک کشیر رقم بھی خرچ ھوئی- ایک ھفتے کہ بجاے دو ھفتے کہ بعد لڑکی کو سامنے لائے-اور کہا کہ لڑکی طلاق مانگتی ھے-میرے دوست نے کہا کہ اس کا قصور بتایں - لیکن لڑکی نے کہا کہ قصور کوئی نہی بس طلاق چاہیے- (اب میں گھر والوں کی خوشی کہ لے طلاق لینا چاھتی ھوں-) لڑکے نے کہا کہ بنا وجہ میں طلاق نہیں دے سکتا- چناچہ کچھ دن کہ بعد اس لڑکی کہ والدین نے لڑکی کا نکاح پر نکاح بنا طلاق کہ اسی لڑکے سے کر دیا -جس کی وجہ سے بھی اس نے اتنا کچھ کر دیا--میرے دوست اور اس کہ عزیزوں نے پوچھا-کہ ایسا کیوں کیا-تو لڑکی کہ والدین نے کہا کہ فتوٰی لیکر کیا ھے-لیکن دس دن تک وہ کویی فتوٰی نہ دے سکے-مجبورا تھانے کہ ذریعے دس دن کہ بعد علادگی کروائی-سزا کہ خوف سے انہوں نے ایس ایچ کہ ساتھ ملکر دوسرے نکاح کووقتی طور پر چھپایا-اور بعد میں عدالت میں میرے دوست کہ خلاف تنسیح نکاح کا داعوٰ ی کر دیا-اور عدا لت میں لڑکی اور اس کہ بھائی نے جھوٹا بیان دیا تاکہ خلع لے سکے- ١)کیا مفتی صاھب پہلا نکاح ٹھیک تھا- ٢) دوسرا نکاح اسلام میں کیسا تھا-١٠دن لڑکی دوسرے نکاح کہ بعد آباد رھی- ٣)اور اب جھوٹے بیانوں سے تنسیح نکاح اگر ھو جا ئے تو کیسا ھو گا شریعت اسلام میں- ٤)اور وہ لوگ جو اس میں ملوث تھے اور ھیں ان کا کیا معاملا ھو گا- مفتی صاحب پہلے سوال کا جواب تو مل گیا ھے-باقی سوالوں کہ جوابات بھی تفصیل سے بتا دیں- آپ کی نوازش ھو گی-

    جواب نمبر: 12624

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 764=783/ب

     

    بالغہ لڑکی اپنے نکاح کی خود مختار ہوتی ہے، اس کے لیے ولی یعنی اپنے باپ سے اجازت لینا ضروری نہیں، جب باپ کو معلوم ہے کہ لڑکی نے اپنی پسند سے اپنے کفو میں نکاح شرعی کرلیا ہے تو پھر باپ کو خاموش ہوجانا چاہیے۔ باپ کا زبردستی اپنی منکوحہ لڑکی کا نکاح طلاق حاصل کیے بغیر دوسرے کے ساتھ کرنا بہت بڑا گناہ ہے، اپنی لڑکی کی بے عصمتی اوراپنی اور اپنے خاندان کی بدنامی ہے۔ یہ دوسرا نکاح نہیں ہوا۔ جھوٹے بیانوں سے نکاح نہ ہوگا۔ لڑکی کو دوسرے شوہر سے علاحدہ کرکے پہلے شوہر کے پاس بھیج دینا چاہیے۔ شریعت کے مسئلہ میں باپ کو ناحق ضد نہ کرنی چاہیے۔ باپ کے ساتھ اس ناجائز نکاح میں جتنے لوگ ملوث ہوں گے، وہ سب حرام کاری کے گناہ میں شمار ہوں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند