• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 11626

    عنوان:

    میں اپنی شادی کے معاملہ کے بارے میں تصدیق کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک میکینکل انجینئر ہوں میری عمر 27سال ہے۔ سنت کے مطابق میری داڑھی ہے او رالحمد للہ جیسا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے میں وہ تمام ذمہ داریاں پوری کرتاہوں۔ میرا موبائل فون کے ذریعہ سے اپنی یونیورسٹی کی ایک لڑکی کے ساتھ تعلق ہوگیا۔ ہم بہت زیادہ موبائل پربات کرتے تھے۔ میں اس لڑکی سے سچی محبت کرتاتھا۔ ہم نے شادی کے بارے میں سوچا۔ میں نے اپنے گھر والوں سے اس کے بارے میں کہا۔ میرے والد نے اس کے والد سے بات کی لیکن اس کے والد نے بہت ہی برے انداز میں بات کی۔میرے والد صاحب ناراض ہوگئے اوراس کے بعد سے وہ وہاں میری شادی کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ یہی صورت حال گزشتہ دو سال سے ہے۔ اس دوران میں اس لڑکی سے مسلسل ملاقات کرتا تھا۔ اس کی کچھ مالی پریشانیاں تھیں اور میں نے اس کی مدد کی بغیر اپنے گھر والوں کی اجازت کے۔ کیا میرا ایسا کرنا درست ہے؟ دوسرے اگر چہ میں جو کچھ پابندیاں اسلام کی طرف سے مجھ پر عائد ہوتی ہیں میں بہت زیادہ محتاط ہوتاہوں لیکن شیطان نے مجھ پر قابو پالیا۔ میں نے لڑکی کی چھاتی کو دیکھا اور اس کو چوسا ایک مرتبہ سے زیادہ اور اس نے میری اس پر حوصلہ افزائی کی۔ ....

    سوال:

    میں اپنی شادی کے معاملہ کے بارے میں تصدیق کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک میکینکل انجینئر ہوں میری عمر 27سال ہے۔ سنت کے مطابق میری داڑھی ہے او رالحمد للہ جیسا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے میں وہ تمام ذمہ داریاں پوری کرتاہوں۔ میرا موبائل فون کے ذریعہ سے اپنی یونیورسٹی کی ایک لڑکی کے ساتھ تعلق ہوگیا۔ ہم بہت زیادہ موبائل پربات کرتے تھے۔ میں اس لڑکی سے سچی محبت کرتاتھا۔ ہم نے شادی کے بارے میں سوچا۔ میں نے اپنے گھر والوں سے اس کے بارے میں کہا۔ میرے والد نے اس کے والد سے بات کی لیکن اس کے والد نے بہت ہی برے انداز میں بات کی۔میرے والد صاحب ناراض ہوگئے اوراس کے بعد سے وہ وہاں میری شادی کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ یہی صورت حال گزشتہ دو سال سے ہے۔ اس دوران میں اس لڑکی سے مسلسل ملاقات کرتا تھا۔ اس کی کچھ مالی پریشانیاں تھیں اور میں نے اس کی مدد کی بغیر اپنے گھر والوں کی اجازت کے۔ کیا میرا ایسا کرنا درست ہے؟ دوسرے اگر چہ میں جو کچھ پابندیاں اسلام کی طرف سے مجھ پر عائد ہوتی ہیں میں بہت زیادہ محتاط ہوتاہوں لیکن شیطان نے مجھ پر قابو پالیا۔ میں نے لڑکی کی چھاتی کو دیکھا اور اس کو چوسا ایک مرتبہ سے زیادہ اور اس نے میری اس پر حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد میں عذاب جہنم سے ڈر گیا او رمیں نے توبہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مجھے حج کی توفیق عطا فرمائی۔ اب میں درج ذیل چیزیں معلوم کرنا چاہتاہوں: (۱)کیا اس کے اوپر میرے اخراجات درست ہیں؟ (۲)اس کو کرنے کا کفارہ کیا ہے؟ (۳)کیا اوپر مذکورپس منظر میں ہماری شادی ہوسکتی ہے؟ (۴)وہ اس گناہ کے لیے صرف مجھے مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ میں نے توبہ کرلیا ہے۔ لیکن وہ مجھ کو بلیک میل کرتی ہے کہ وہ مجھ کو قیامت کے دن پکڑے گی۔ اس کے بارے میں قرآنی احکام کیا ہیں؟ میں اپنی آخرت کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہوں۔ برائے کرم میری مددکریں۔ مجھے بتائیں کہ میں کیسے توبہ کروں؟ اور میں اب بھی اس لڑکی کے ساتھ شاد ی کرنا چاہتاہوں۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ میرے والد متفق نہیں ہیں۔ میں نے اس سے حقیقت بیان کردی ہے لیکن اب تک اس نے اس کو قبول نہیں کیا ہے۔ کیا میں اس معاملہ کا گناہ گار ہوں؟ میں اپنے والد کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتاہوں۔

    جواب نمبر: 11626

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 751=197t

     

    (۱) درست نہیں، بلکہ گناہ کا موجب ہوئے، ان سے توبہ استغفار کرنا چاہیے۔

    (۲) سچی پکی توبہ اور کسی بھی لڑکی کے ساتھ اس قسم کا معاملہٴ قبیحہ نہ کرنے کا عزم بالجزم۔

    (۳) اگر کوئی شرعی مانع نہ ہو مثلاً کوئی رشتہ محرمیت کا نہ ہو، آپ دونوں ہم کفوٴ ہوں، تو شادی ہوسکتی ہے، بلکہ ہوجانا ہی بہتر ہے۔

    (۴) اگر شادی ہوجانے میں مصلحت ہے تووالد صاحب کو راضی کرکے کرلیں، اگر مصلحت کے خلاف ہو تو اس لڑکی سے بالکلیہ تعلقات منقطع کرلیں اور کہیں مناسب رشتہ تلاش کرکے جلد اپنا نکاح کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند