• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 11307

    عنوان:

    شادی کرتے وقت سوچ کس قسم کی ہومطلب کیا نیت ہونی چاہیے جس سے شادی کے پہلے اور شادی کے بعد کی زندگی آسان ہو، کیوں کہ مجھے غلط خیالات آتے ہیں ؟(۲) مہرکے بارے میں بھی رہنمائی فرمادیں؟

    سوال:

    شادی کرتے وقت سوچ کس قسم کی ہومطلب کیا نیت ہونی چاہیے جس سے شادی کے پہلے اور شادی کے بعد کی زندگی آسان ہو، کیوں کہ مجھے غلط خیالات آتے ہیں ؟(۲) مہرکے بارے میں بھی رہنمائی فرمادیں؟

    جواب نمبر: 11307

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 580=483/د

     

    (۱) عفت اور پاک دامنی کی نیت سے اولادِ صالح کی تحصیل پیش نظر ہو، نیز شادی سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے دین کا تحفظ مقصود ہونا چاہیے۔

    (۲) مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم تقریباً ساڑھے اکتیس گرام چاندی ہے، اور مہر مثل لڑکی کا حق ہوتا ہے، یعنی اس کے دادیہالی خاندان کی لڑکیوں کا جو مہر ہو، اتنی مقدار مہر باندھنا لڑکی کا حق ہوتا ہے، البتہ اگر رسم و رواج کے تحت بہت زیادہ باندھنے کا طریقہ چلا آرہا ہو جس میں ادائیگی مقصود نہیں ہوتی بلکہ صرف نام آوری کے پیش نظر ہوتی ہے، تو ایسی مروجہ مقدار کو کم کرکے مناسب مقدار باہم طے کرلینی چاہیے، اسی طرح اگر بہت کم مقدار کا رواج ہو تو اسے بھی بڑھالینا چاہیے۔ مہرفاطمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دیگر بنات طاہرات کا جو مہر مقرر فرمایا، اسے مہر فاطمی کہتے ہیں، اس مقدار کا مقرر کرلینا پسندیدہ ہے، جو پانچ سو درہم یعنی ایک کلو پانچ سو تیس گرام نوسو ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔ جو مقدار بھی باہم طے ہوجائے، وہ عورت کا حق ہوجاتا ہے، شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی واجب ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند