• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 10513

    عنوان:

    مسلم گھرانے میں اگر شوہر بیرون ملک رہتا ہے اوربیوی گھر پر رہتی ہے۔اور کوئی انفرادی مرد رشتہ دار اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر میں آتا ہے۔ اور اس کے بعد شوہر بیوی کوہدایت دیتا ہے کہ میری غیر موجودگی میں گھر کے اندر کسی انفرادی شخص کے داخلہ کی اجازت نہیں ہے، اور بیوی بہت سالوں سے اس کی فرمانبرداری نہیں کررہی ہے۔اس صورت میں شوہر کو کس طرح کا ایکشن لینا چاہیے؟ جب شوہر بار بار وارننگ دے رہا ہے اس کے بعد بھی بیوی شوہر سے سوال کررہی ہے کہ کیا تم نے کچھ اپنی آنکھوں سے غلط دیکھا ہے؟ کیا یہ جواب درست ہے؟ اس صورت حال میں شوہر ایکشن لینے کا کیا اسلامی حق رکھتا ہے، جو کہ اسلام میں جائز ہو؟

    سوال:

    مسلم گھرانے میں اگر شوہر بیرون ملک رہتا ہے اوربیوی گھر پر رہتی ہے۔اور کوئی انفرادی مرد رشتہ دار اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر میں آتا ہے۔ اور اس کے بعد شوہر بیوی کوہدایت دیتا ہے کہ میری غیر موجودگی میں گھر کے اندر کسی انفرادی شخص کے داخلہ کی اجازت نہیں ہے، اور بیوی بہت سالوں سے اس کی فرمانبرداری نہیں کررہی ہے۔اس صورت میں شوہر کو کس طرح کا ایکشن لینا چاہیے؟ جب شوہر بار بار وارننگ دے رہا ہے اس کے بعد بھی بیوی شوہر سے سوال کررہی ہے کہ کیا تم نے کچھ اپنی آنکھوں سے غلط دیکھا ہے؟ کیا یہ جواب درست ہے؟ اس صورت حال میں شوہر ایکشن لینے کا کیا اسلامی حق رکھتا ہے، جو کہ اسلام میں جائز ہو؟

    جواب نمبر: 10513

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 131=131/ م

     

    شوہر، بیوی کو اس بات کا پابند بناسکتا ہے کہ میری غیر موجودگی میں کوئی اجنبی شخص گھر میں داخل نہ ہونے پائے، اور بیوی کو اس حکم کی اطاعت لازم ہے، لیکن محض شک وشبہ کی بنیاد پر غلط الزام نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ اگر یقینی ذرائع سے بھی بیوی کی بدکاری کا علم ہوجائے تو شوہر کو اس کی اصلاح کی فکر و کوشش کرنی چاہیے، اوراصلاح کی تدبیروں میں سے یہ بھی ہے کہ شوہر جہاں رہتا ہے، وہیں بیوی کو بھی ساتھ رکھے، اس لیے کہ عام طور پر شوہر، بیوی میں دوری اور لمبی جدائی کی بنا پر ہی اس طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند