• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 66533

    عنوان: ایک کلومیٹر کی دوری پر جو مسجد ہے اگر وہ بازار کی آبادی یا اس کے فناء میں داخل ہے تو اس میں بھی جمعہ درست ہے

    سوال: میرا ایک سوال بہت طویل ہے ، میں آپ سے معذرت چاہتاہوں۔ براہ کرم، مکمل جواب دیں۔ ہمارے بازار میں ایک جامع مسجد ہے اس میں نماز جمعہ ہوتی ہے ، کچھ عرصہ کے بعد اس مسجد میں جھگڑا ہوگیا، جو مسجد کی کمیٹی کے آدمی تھے انہوں نے کہا کہ ہماری مسجد میں نہیں آنا نماز پڑھنے کے لیے، دوسری پارٹی کے لوگوں نے عہد کیا کہ کیا ہم بھی نہیں جائیں گے۔ اس وقت وہاں قریب کوئی دوسری مسجد نہیں تھی جہاں جمعہ پڑھ سکتے تھے ، وہ وہاں سے گئے ،دوسری مسجد میں وہاں جمعہ کی نماز قائم کی جو پہلی مسجد سے ایک کلو میٹر دو رہے ،کیا اس مسجد میں جمعہ کی نماز ہوئی کہ نہیں؟ پھر اس کے بعد دوسری پارٹی کے لوگوں نے پہلی مسجد کے قریب ہی مسجد کے لیے جگہ لے کر جامع مسجد بنائی ہے اور وہاں نمازجمعہ ہوتی ہے۔ اور ساتھی کہتے ہیں کہ اس مسجد میں کوئی نماز نہیں ہوتی، کیا اس کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟ اور کیا اس مسجد میں بھی نماز جمعہ ہوتی ہے یا نہیں؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔ نیز بتائیں کہ حنفیہ کے نزدیک نماز جمعہ کے کیا شرائط ہیں؟

    جواب نمبر: 66533

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 768-607/D=9/1437

     

    (۱) کمیٹی کے لوگوں کا نمازیوں کو مسجد میں آنے سے منع کرنا سخت گناہ ہے قرآن میں ایسے شخص کو بڑا ظالم کہا گیا ہے وَمَنْ أظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ الآیة۔ ان لوگوں کا مسجد کو ہماری مسجد کہنا اس اعتبار سے تو صحیح ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے منتظم اور مصلی ہیں یا ہمارے محلہ میں ہے لیکن عام مصلیوں سے زائد اپنا حق اس میں سمجھنا جائز نہیں کیونکہ مساجد اللہ کے لیے ہوتی ہیں اس میں مالکانہ حق کے طور پر کسی بندہ کا دخل عمل نہیں ہوتا، ارشاد خدا وندی ہے: ان المساجد للہ الآیة․

    (۲) نمازیوں کے زیادہ ہوجانے یا کسی اور مصلحت سے دوسری مسجد بنانا شرعاً درست اور باعث ثواب ہے لیکن از راہ نفسانیت محض ضد اور لڑائی کرکے بنانا اخلاص کے خلاف ہے ثواب میں اس کی وجہ سے کمی ہوجاتی ہے اگر چہ یہ مسجد بھی مسجد کہلائے گی اور اس میں نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی۔

    (۳) آپ کی بستی قصبہ یا بڑے گاؤں کی طرح ہے کہ اس میں ضروریات کی تمام چیزیں مل جاتی ہیں تو اس آبادی اور اس کی فنا کی کسی بھی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے۔ جامع مسجد سے ایک کلومیٹر کی دوری پر جو مسجد ہے اگر وہ بازار کی آبادی یا اس کے فناء میں داخل ہے تو اس میں بھی جمعہ درست ہے، اسی طرح دوسری پارٹی نے پہلی مسجد کے قریب ہی جو جامع مسجد بنائی ہے اس میں بھی نماز جمعہ درست ہے۔

    نماز جمعہ کے شرائط :

    (۱) شہر قصبہ یا بڑا گاوٴں جس میں گلیاں اور بازار ہوں کہ ضروریات کی چیزیں دستیاب ہوجاتی ہوں۔

    (۲) حاکم یا اس کا قائم مقام کا ہونا۔

    (۳) ظہر کا وقت پایا جانا۔

    (۴) خطبہ پڑھنا۔

    (۵) خطبہ کا جمعہ سے پہلے پڑھا جانا۔

    (۶) کم از کم تین مردوں کا جمعہ میں شامل ہونا۔

    (۷) جمعہ میں شرکت کا عام اجازت ہونا۔

    قال في الہندیہ کما یجوز أداء الجمعة في المصر یجوز أدائہا في فناء المصر (ص: ۱/۲۰۵ہندیہ)

    ویشترط لصحتہا سبعة أشیاء (الدر مع الرد،۳/ ۲۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند