• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 604408

    عنوان:

    عیدین میں زائد تکبیرات كی وضاحت قرآن وحدیث كی روشنی میں

    سوال:

    ایک دن میں ہم جو چھ زائد تکبیر پڑھتے ہیں اس کے قرآن و حدیث سے وضاحت اور جو دوسری احادیث میں تکبیرات آئی ہے اس کی وضاحت فرمائیں۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 604408

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 786-157T/D=10/1442

     پہلی رکعت میں تکبیر افتتاح اور تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیر زاید کہی جائے گی اسی طرح دوسری رکعت میں تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیر زاید کہی جائے گی۔ قال فی الدر المختار: ویصلی الامام بہم رکعتین مثنیاً قبل الزاوائد وہی ثلاث تکبیرات فی کل رکعة ولو زاد تابعہ الی ستة عشر لانہ ماثور (الدر مع الرد: 3/54)۔

    قال فی البدائع: ان عندنا یکبر فی صلاة العیدین تسع تکبیرات: ستة من الزوائد وثلاث اصلیات، تکبیرة الافتتاح وتکبیرتا الرکوع، ویوالی بین القرأتین فیقرأ فی الرکعة الاولی بعد التکبیرات وفی الثانیة قبل التکبیرات۔

    والمسألة مختلفة بین الصحابة، روی عن عمر وعبد اللہ بن مسعود وابی مسعود الانصاری وابی موسیٰ الاشعری وحذیفة بن الیمان رضی اللہ عنہم انہم قالوا مثل قول اصحابنا (بدائع الصنائع: 1/620)

    قال فی اعلاء السنن: وہذا الاختلاف محمول علی التوسعة فی العدد ․․․․․․․

    وقال ایضا: والامر فی التکبیرات واسع ۔ قال الامام محمد فی موطأة قد اختلف الناس فی التکبیر فی العیدین فما اخذت فہو حسن وافضل ذالک عندنا ماروی عن ابن مسعود۔ اعلاء السنن: 8/137۔ تفصیل کے لئے بدائع الصنائع اور اعلاء السنن کا مطالعہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند