• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 604403

    عنوان:

    جمعہ كے وقت دكانیں كس اذان پر بند كی جائیں؟

    سوال:

    ہمارے شہر میں دوپہر ایک بجے سے پونے تین بجے تک مختلف اوقات میں مختلف مساجد میں نماز جمعہ ہوتی ہے، اور اکثر مسلمان کاروباری لوگ الگ الگ اوقات میں نماز جمعہ ادا کر لیتے ہیں، اور اپنی دکان وغیرہ بند کرنے کا اہتمام نہیں کرتے، اور ہمارے شہر کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ۲۰فیصد سے بھی کم ہے۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک صاحب جو کہ غیر عالم ہیں، وہ سوشل میڈیا پر معارف القرآن کے حوالے سے یہ پیغام نشر کرتے ہیں کہ 'ہر مسلمان کو جمعہ کے وقت اپنے کاروبار، دوکان اور دھندا بند کرنا فرض ہے، اور جمعہ کے وقت کاروبار یا دوکان چالو رکھنا ناجائز اور حرام ہے' سوال یہ ہے کہ ۱۔ ان صاحب کی یہ بات درست ہے یا نہیں؟

    ۲۔ اگر درست ہے تو مسلمانوں کے اس حکم پر عمل کرنے کی کیا صورت حال ہوگی؟

    ۳۔ کیا ہر مسلمان کے لئے شہر کی سب سے پہلے ہونے والی اذان سے لے کر آخری وقت جہاں جمعہ ہوتی ہے تب تک اپنے کاروبار اور دوکان کا بند کرنا فرض ہوگا؟ بینوا توجروا

    جواب نمبر: 604403

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:750-572/N=9/1442

     (۱- ۳): دلائل کی روشنی میں راجح ومختار قول یہ ہے کہ ہر شخص جس مسجد میں جمعہ پڑھتا ہے یا جس مسجد میں وہ جمعہ پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے حق میں خرید وفروخت وغیرہ ممنوع ہونے میں اس مسجد کی اذان اول کا اعتبارہوگا (حاشیہ امداد الفتاوی، ۱: ۱۶۹، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبنداور احسن الفتاوی ۱۰: ۲۰۷، مطبوعہ زیر اہتمام: الحجاز پبلشرز، کراچی)، جیسا کہ دیگر نمازوں میں اگر مختلف مساجد سے کچھ وقفے کے ساتھ اذانیں ہوں تو راجح قول کے مطابق علی الاطلاق ہر مسجد کی اذان کا جواب مطلوب نہیں؛ بلکہ اصل اس مسجد کی اذان کا جواب دینا ہے، جس میں آدمی نماز پڑھتا ہے یا وہ نماز جس مسجد میں پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے ( احسن الفتاوی، ۴: ۱۲۸، مطبوعہ: ایچ ایم سعید کراچی)۔

    قال (في النھر):”…وأن یجیب بقدمہ اتفاقاً فی الأذان الأول یوم الجمعة لوجوب السعي بالنص“، وفی التاترخانیة: ’إنما یجیب أذان مسجدہ“ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الأذان، ۲: ۷۰، ۷۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۶۳۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    والظاھر أن المأمورین بترک البیع ھم المأمورون بالسعي إلی الصلاة (روح المعانی،۲۸: ۱۰۳، ط: دار إحیاء التراث العربي بیروت)۔

    سئل عالم العلماء بسمرقند: الموٴذنون کل واحد بعد الأذان فی مواضع شتی یشتغل بجواب الکلام الواحد؟ قال: یشتغل بجواب أذان الموٴذن الذي ھو موٴذن مسجد حیہ فحسب، ولا یجب علیہ إجابة أذانھم عند أذانہ، وفي غیرہ إذا اشتغل بأمر نفسہ فلا إثم علیہ؛ لأنہ لا یجب علیہ إجابة أذانھم (جواہر الفتاوی، مخطوطة، ص ۲۵/أ)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند