• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 602195

    عنوان:

    متعدد جگہ جمعہ كی نماز پڑھنا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیائے اکرام مسئلہ ذیل کے ہمارے قصبہ ادری میں پورے لاک ڈاؤن بھر لوگوں نے گھر کے اندرنماز جمعہ اورنماز عیدین ادا کیا اور جیسے ہی سرکاری گائد لائن کا اعلان ہواکہ 100لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں تو مولوی ابو عامر قاسمی صاحب اور کچھ عالم حضرات نے بغیر مفتیان اکرام کے مشورے سے اپنے محلہ کے مسجد میں نماز جمعہ کا آغاز کردیاقریب 7جمعہ گزر جانے کے بعد قصبہ کے عالم و مفتی حضرات آئے اورمسجد کے ذمہ داران اور مصلی سے کہا کہ آپ لوگ جمعہ کی نماز اپنی مسجد میں نہ ادا کریں اسلئے کہ قصبہ کی جامع مسجد خالی رہتی ہے لہٰذا آپ لوگ جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کریں مصلیوں کا کہنا ہے کہ ہماری مسجد جمعہ کے لیے تیار کی گئی تھی کیونکہ ہمارے محلہ میں غیر مسلموں کی اکثریت ہے اور مسجد کے پڑوس میں بھی ہندو ہیں اگر ہم جامع مسجد جاتے ہیں تو ہمارا گھر اور عورتیں اور مسجد محفوظ نہیں رہتیں کبھی بھی کوئی انہونی ہوسکتی۔

    جواب نمبر: 602195

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 393-355/B=06/1442

     جہاں جواز جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں متعدد جگہ جمعہ پڑھا جاسکتا ہے؛ البتہ جمعہ کا مقصد اجتماعیت اور شوکت کا اظہار بھی ہے اس لئے جامع مسجد میں یا بڑی مسجدوں میں پڑھنا افضل ہے جامع مسجد اور بڑی مسجدوں میں جگہ ہوتے ہوئے بلاضرورت چھوٹی مسجد میں جمعہ قائم نہ کرنا بہتر ہے۔

    صورت مسئولہ میں جو مصلحت چھوٹی مسجد والوں نے ذکر کی ہے وہ بھی قابل لحاظ ہے اور اگر بلاضرورت قائم کریں گے تو جامع مسجد کے ثواب سے محرومی رہے گی، اور نفسانیت کی بنا پر یا جامع مسجد غیر آباد ہوجانے کی صورت میں گناہ بھی ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند