• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 602159

    عنوان:

    قصبے کی تمام مساجد میں جمعہ قائم کرنا

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان دین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں لاکڈاؤن سے قبل تقریباً ۵۱مساجد میں جمعہ قائم ہوتا تھا لیکن لاکڈاؤن کے درمیان نمازیوں کی محدود تعداد کی شرط کے ساتھ سبھی مساجد میں جمعہ قائم ہونے لگا اب چونکہ لاکڈاؤن ختم ہو چکا ہے لیکن اب بھی سبھی مساجد میں جمعہ قائم کیا جاتا ہے اور کچھ لوگ ابھی بھی سرکاری ھدایات کا حوالہ دیکر گھروں میں جمعہ قائم کرتے ہیں جس سے مساجد میں بڑا اجتماع نہیں ہو پاتا کیا ابھی بھی گھروں اور قصبے کی جملہ مساجد میں جمعہ قائم کرنا درست ہے جواب دیکر مطمئن کریں نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 602159

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 390-304/D=06/1442

     بلاشدید مجبوری کے گھروں میں جمعہ قائم نہ کریں اب مسجدیں کھل گئی ہیں لہٰذا جمعہ کے لئے مسجدوں میں آنے کی کوشش کی جائے ہاں اگر کسی مسجد میں اس قدر مجمع ہوجانے کا امکان ہو کہ ازدحام حکومت کی نظر میں قابل گرفت ہوجانے کا ڈر ہو تو پھر مسجد کے علاوہ کسی بڑے ہال میں جمعہ قائم کیا جائے جہاں لوگوں کی خاصی تعداد اکٹھا ہوسکے کیونکہ جمعہ میں اجتماعیت اور بڑی جماعت مطلوب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند