• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 602099

    عنوان:

    جمعہ کی جماعت ثانیہ وثالثہ كا حكم؟

    سوال:

    سوال یہ ہے کہ بندہ ناچیزمکہ مسجد دیوی لال گوڑگاوں میں تقریبا ۱۶سال سے امامت کے فرائض کو انجام دے رہا ھے جب سے اب تک صرف ایک مرتبہ جمعہ کی نماز ہوتی رہی ہے ۔مسجد چھوٹی ہے تعداد نمازیوں کی کثیر ھے ۔مالی وسعت بھی نہیں ہے ۔بہت سے نماز سے رہ جاتے ہیں ۔کرونا وبا کی وجہ سے بھی بے انتہا دشواریاں سرکاری ہدایات کی وجہ سے ہیں ۔ان تمام صورتوں میں جمعہ کی دو تین مرتبہ جماعت کرنے کی گنجائش ہے ؟ ان تمام سوالات کا ترتیب وار اور تفصیل سے جواب مطلوب ہے کیونکہ شہر میں کئی مسجد میں دو مرتبہ جمعہ کی جماعت ہوتی ہے اس لئے یہاں بھی آنے والے جمعہ سے دو مرتبہ جمعہ کی جماعت کرنے کا اعلان ہو سکتا ہے ۔

    جواب نمبر: 602099

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 375-325/M=05/1442

     ایک مسجد میں ایک وقت کی ایک ہی جماعت ہونی چاہئے، دوسری اور تیسری جماعت مکروہ ہے۔ آپ کی مسجد میں اب تک جمعہ کی صرف ایک ہی جماعت ہوتی آرہی ہے یہ طریقہ درست ہے اسی کو برقرار رکھنا چاہئے آپ کی مسجد میں جگہ کی تنگی اور نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسری اور تیسری جماعت کی ضرورت پڑتی ہے تو جو لوگ پہلی جماعت میں شامل ہونے سے رہ جائیں وہ کسی دوسری مسجد میں جاکر جمعہ ادا کرنے کی کوشش کریں اور اگر دوسری مسجد بہت دور ہو یا وہاں بھی جماعت ہو چکی ہو تو ایسی صورت میں خارج مسجد کسی مناسب مقام پر بشرائط دوسری اور تیسری جماعت کرسکتے ہیں، اور مسجد چھوٹی ہے تو اس کو کشادہ کرنے یا مناسب فاصلے پر نئی مسجد تعمیر کرنے کی فکر و کوشش کریں۔ شہر کی جن مسجدوں میں جمعہ کی دوسری جماعت ہوتی ہے ان کے لئے بھی یہ حکم ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند