• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 44031

    عنوان: جمعہ كے لیے دوسری اذان

    سوال: میرے علم کے مطابق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں جمعہ پڑھنے کے لئے ایک ہی اذان دی جاتی تھی۔ بعد میں دوسری اذان دی جانے لگی۔ اب اگر کوئی جمعہ والے دن ایک اذان کے ساتھ جمعہ پڑھائے تو کیا اس طرح جمعہ کی نماز ہو جاتی ہے؟ براہِ مہربانی یہ نہ بتائیے گا کہ عندالاحناف یہ جواب ہے بلکہ وہ بتائیے گا جو ہمارے نبی ? سے ثابت ہے۔ کیونکہ ہماری نبی ﷺکی حیات مبارکہ میں کوئی حنفی حنبلی وغیرہ یعنی کوئی فرقہ نہیں تھا۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 44031

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 342-269/B=3/1434 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو انھوں نے صحابہٴ کرام کے مشورے سے ایک اذان کا اضافہ فرمایا، علیکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدین کی حدیث کے تحت ہمارے لیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اختیار کرنا منسون ہے اسی طرح خلفائے راشدین اور صحابہٴ کرام کے طریقوں کو اختیار کرنا بھی مسنون ہے، اکر کوئی ایک اذان کے ساتھ جمعہ پڑھائے گا تو حدیث مذکور کی رو سے وہ تارک سنت ہوگا، جن صحابہٴ کرام کی منقبت آیات قرآنی سے منصوص ہے ان کے بارے میں یہ کہنا کہ اذان ثانی یہ بدعت عثمانی ہے، کہاں تک صحیح ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جمعہ کا خطبہ اردو میں ہوتا تھا، یہ کس حدیث پر عمل ہے، کیا یہ بدعت نہیں ہے؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند