• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 33256

    عنوان: ہماری مسجد میں جمعہ کی نماز کے وقت کسی آدمی کا پیسہ گرا ہوا تھا، اسے موٴذن صاحب نے اٹھا اور مجھے لا کر دیدیا، مسجد میں اعلان بھی کیا مگر کوئی نہیں آیا، وہ پیسہ میرے پاس بہت دنوں سے ہے، امام صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم کو وہ پیسہ نہیں لینا تھا۔ میر ا مسئلہ یہ ہے کہ اس پیسے کو لے کر میں کیا کروں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    سوال: ہماری مسجد میں جمعہ کی نماز کے وقت کسی آدمی کا پیسہ گرا ہوا تھا، اسے موٴذن صاحب نے اٹھا اور مجھے لا کر دیدیا، مسجد میں اعلان بھی کیا مگر کوئی نہیں آیا، وہ پیسہ میرے پاس بہت دنوں سے ہے، امام صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم کو وہ پیسہ نہیں لینا تھا۔ میر ا مسئلہ یہ ہے کہ اس پیسے کو لے کر میں کیا کروں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 33256

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1307=265-8/1432 اعلان بار بار کردیں، اگر اس کے مالک کا پتہ چل جائے تو اس سے علامت وغیرہ پوچھ کر اطمینان ہونے پر اسے دیدیں، لیکن اگر اعلان کے باوجود مالک کا پتہ نہ چلے تو کسی غریب کو مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت کرکے دیدیں۔ پھر اگر بعد میں مالک آگیا تو اسے بتلادیں اگر وہ اس صدقہ کو منظور کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ کو دینا پڑے گا اور صدقہ کا ثواب آپ کو مل جائے گا۔ صدقہ دیتے وقت بہتر ہے کہ دو ایک آدمیوں پر ظاہر کردیں کہ یہ میں فلاں پیسہ صدقہ کررہا ہوں تاکہ آپ پر کسی کو یا خود مالک کو (آجانے کے بعد) بدگمانی نہ ہو۔ اگر خود ہی غریب مستحق زکاة ہوں تو خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اسی شرط کے ساتھ کہ اگر مالک آگیا اور اس نے صدقہ منظور نہ کیا بلکہ مطالبہ کیا تو دینا پڑے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند