• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 179877

    عنوان: کیا اس مہاماری کے دوران مسجد میں نماز جمعہ کی دو یا تین جماعت کی جا سکتی ہیں؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اس مہاماری کے دوران مسجد میں نماز جمعہ کی دو یا تین جماعت کی جا سکتی ہے یا اگر مسجد دو منزلہ ہو اصل مسجد اوپر کے حصے میں ایک بار جماعت ہو جائے تو کیا جو نیچے کا حصّہ ہے اس میں نماز نہیں ہوتی ہے اگر وہاں دوسری یا تیسری نماز جمعہ ادا کی جا سکتی ہے ؟

    جواب نمبر: 179877

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:36-41T/N=3/1442

     کورونا وائرس (COVID-19)کو لے کر اس وقت ملک میں جو مہاماری ہے، اُس میں بھی محلّے کی مساجد (جس میں متعینہ امام وموٴذن اور کچھ مقتدیوں کے ساتھ پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو)میں نماز پنجگانہ اور جمعہ سب میں جماعت ثانیہ مکروہ ہے اگرچہ دوسری جماعت بلا اذان واقامت اور محراب وغیرہ سے ہٹ کر باہری حصے میں یا اوپری منزل وغیرہ میں ادا کی جائے، راجح ومفتی بہ قول یہی ہے (عزیز الفتاوی، ص: ۲۰۸، جواب سوال: ۲۳۴، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، امداد الاحکام، ۲: ۱۱۱،فصل فی الإمامة والجماعة، سوال:۱، مکتوبہ: ۲۲/ ربیع الثانی ۱۳۴۰ھ، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند، بہشتی زیور مدلل، ۱۱: ۵۵، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم، سہارن پور، فتاوی محمودیہ، ۲۲: ۸۲، ۸۳، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل)۔ اور شریعت میں جو مسجد کی آبادکاری مطلوب ہے، وہ ایک وقت میں صرف ایک جماعت سے مطلوب ہے، متعدد جماعتوں سے نہیں؛اسی لیے حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب ایک موقعہ پر حضرات انصار کے کے دو قبیلوں کے درمیان صلح کے لیے تشریف لے گئے اور واپسی پر مسجد نبوی میں جماعت ہوچکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی زوجہ مطہرہ  کے مکان میں نماز باجماعت ادا فرمائی، مسجد میں جماعت ثانیہ قائم نہیں فرمائی۔

    نیز اگرمسجد محلہ میں دوسری، تیسری جماعت کی اجازت دی جائے گی تو کچھ بعید نہیں کہ بعض نمازوں میں اصل جماعت مختصر ہو اور دیگر جماعتیں بڑی ہوں، جس سے لازمی طورپر اصل جماعت کی اہمیت متاثر ہوگی۔

    اور جماعت ثانیہ کرنے میں ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ لوگوں میں جماعت ثانیہ کا عام ماحول ومزاج قائم ہو جائے اور لوگوں کے دلوں سے جماعت ثانیہ کی کراہت وقباحت بالکل ختم ہوجائے۔ اور جس چیز کی طرف عام طبائع کی رغبت ودلچسپی ہوتی ہے، اس سے کلی طور پر منع کیا جاتا ہے، شرائط وقیود کے ساتھ بھی اس کی اجازت نہیں دی جاتی (البراہین القاطعہ، ص: ۱۲۷، مطبوعہ: دار الکتاب، دیوبند) اور مساجد کی دوسری ، تیسری جماعت کا یہی حال ہے۔

    اور آج کل کے حالات میں اگر مساجد میں جماعت ثانیہ کی اجازت دی جائے گی تو ہر مسجد میں کبھی کبھی محض اتفاقی طور پر جماعت ثانیہ نہ ہوگی؛ بلکہ ہر نمازمیں باقاعدہ اہتمام کے ساتھ جماعت ثانیہ ہوگی، جس کے جواز کا کوئی قائل نہیں ہے۔

    کفایت المفتی میں ہے:

    ”جس مسجد میں کہ پنج وقتہ جماعت اہتمام و انتظام سے ہوتی ہو، اس میں امام ابوحنیفہ کے نزدیک جماعتِ ثانیہ مکروہ ہے؛ کیوں کہ جماعت در اصل پہلی جماعت ہے، اور مسجد میں ایک وقت کی فرض نماز کی ایک ہی جماعت مطلوب ہے۔حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک اور خلفائے اربعہ وصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں مساجد میں صرف ایک ہی مرتبہ جماعت کا معمول تھا، پہلی جماعت کے بعد پھر جماعت کرنے کا طریقہ اور رواج نہیں تھا۔دوسری جماعت کی اجازت دینے سے پہلی جماعت میں نمازیوں کی حاضری میں سستی پیدا ہوتی ہے اور جماعت اولی کی تقلیل لازمی ہوتی ہے؛ اس لیے جماعت ثانیہ کو حضرت امام صاحب نے مکروہ فرمایا اور اجازت نہ دی۔اور جن ائمہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی اتفاقی طور پر جماعتِ اولی سے رہ جانے والوں کو اس طور سے اجازت دی کہ وہ اذان واقامت کا اعادہ نہ کریں اور پہلی جماعت کی جگہ بھی چھوڑ دیں تو خیر پڑھ لیں؛ لیکن روزانہ دوسری جماعت مقرر کرلینا اور اہتمام کے ساتھ اس کو ادا کرنا اور اس کے لیے تداعی، یعنی لوگوں کو بلانا اور ترغیب دینا یہ تو کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں، نہ اس کے لیے کوئی فقہی عبارت دلیل بن سکتی ہے، یہ تو قطعا ممنوع اور مکروہ ہے“ (کفایت المفتی، ۳: ۱۴۰، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)۔

    اور جب موجودہ حالات میں مسجد بھرجانے کی صورت میں مسجد کی جماعت ترک کرنے کا عذر شرعی ہے تو مساجد میں دوسری، تیسری جماعت کی کوئی شرعی ضروت بھی نہیں ہے؛ بلکہ حسب نیت وارادہ إن شاء اللّٰہغیر مسجد کی جماعت میں بھی پورا ثواب ملے گا؛

    لہٰذا جن لوگوں کو کوشش وفکر کے باوجود نماز پنجگانہ یا جمعہ میں مسجد کی جماعت نہ مل سکے، وہ مسجد میں دوسری ، تیسری جماعت نہ کریں؛ بلکہ وہ مساجد کے علاوہ دوسری جگہوں پر نماز باجماعت ادا کرلیں اور جمعہ کی نماز بھی حسب سابق، شرائط کی رعایت کے ساتھ ادا کرلیں۔

    ویکرہ تکرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة، لا في مسجد طریق إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۲۸۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۳: ۵۰۳، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔ قولہ: ”ویکرہ “أي : تحریماً لقول الکافي: لایجوز، والمجمع: لا یباح، وشرح الجامع الصغیر:إنہ بدعة کما في رسالة السندي (رد المحتار)۔

    تنبیہ :تکرار الجماعة مکروہ في ظاہر الروایة کراھة تحریم لما قال فی الکافي:إنہ لا یجوز، وفي شرح المجمع :لا یباح، وفي شرح الجامع الصغیر: بدعة کذا فی الدر۔ وفی الدر أیضا : ما اتفق علیہ أصحابنا فی الروایات الظاھرة یفتی بہ قطعاً اھ (غنیة الناسک (ص ۵۱، ۵۲، ط: قدیم)۔

    وکذلک تکرہ تحریماً من غیر إعادتھما عند أبي حنیفة، وھو ظاھر الروایة کما في رد المحتار (۱: ۵۱۷) (باب الإمامة)، وفي (ص ۳۶۷) من الأذان حکاہ عن الظھیریة۔ وفي روایة شاذة عن أبي یوسف أنہ لا تکرہ إذا لم تکن الجماعة علی الھیئة الأولی ،حکاہ إبراھیم الحلبي في شرح المنیة وابن عابدین وغیرھما بلفظ: وروي عن أبي یوسف الخ (معارف السنن، ۲: ۲۸۵ط مکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    روی عبد الرحمن بن أبي بکر (الصواب: أبي بکرة کما في إعلاء السنن)عن أبیہ ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج من بیتہ لیصلح بین الأنصار، فرجع وقد صلی فی المسجد بجماعة، فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في منزل بعض أھلہ، فجمع أھلہ فصلی بھم جماعة“(رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الأذان ۲: ۶۴)۔

    قولہ: ”عن أبي بکرة إلخ“: قلت: وتقریر الاستدلال بہ علی ما في رد المحتار (۱: ۵۷۷): ولو جاز ذلک لما اختار الصلاة في بیتہ علی الجماعة في المسجد اھ، وقال بعض الناس عن التحریر المختار: ولا یتم الاستدلال بہ إلا إذا وجد جماعة یصلي بھم في المسجد، ومع ھذا اختار الصلاة في منزلہ بأھلہ اھ، قلت: کان یمکن أن یجمع الصلاة بأھلہ في المسجد دون بیتہ؛ فإن النساء کن یشھدن الصلاة فیہ مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم کما عرف في موضعہ، فالاستدلال بہ تام۔ واعلم أن ھذا الحدیث ذکرہ العلامة الشامي في رد المحتار، ولکن وقع فیہ التصحیف في اسم الصحابي، فقال: ”روی عبد الرحمن بن أبي بکر عن أبیہ إلخ“، فیتوھم منہ أنہ من روایة أبي بکر الصدیق، ولیس کذلک؛ بل ھو عن عبد الرحمن بن أبي بکرة، فقول بعض الناس: ”لم أقف علیہ، ولا أصل لہ“ مردود علیہ؛ فإن حدیث أبي بکرة أخرجہ الطبراني بسند رجالہ ثقات کما ذکرناہ في المتن (إعلاء السنن، کتاب الصلاة، أبواب الإمامة، باب کراھة تکرار الجماعة في مسجد المحلة، ۴: ۲۸۴، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة، کراتشي)۔

    (وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارھا المبیحة للتخلف)، وکانت نیتہ حضورھا لولا العذر الحاصل (یحصل لہ ثوابھا) لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم:”إنما الأعمال بالنیات، وإنما لکل امریٴ ما نوی“۔ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي علیہ، کتاب الصلاة، باب الإمامة، فصل: یسقط حضور الجماعة الخ، ص: ۲۹۹، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند