• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 175924

    عنوان: اگر محلے کی مسجد میں جمعہ کی نماز نکل گئی تو كیا كریں؟

    سوال: (۱) محلے کی مسجد میں تنہا نماز پڑھنا کیازیادہ بہترہے بہ نسبت دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے؟ (۲) اگر محلے کی مسجد میں جمعہ کی نماز نکل گئی تو بہترکیا ہے؟ محلے کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھنا یا کسی اور مسجد میں باجماعت جمعہ کی نماز ادا کرنا؟

    جواب نمبر: 17592401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:421-360/sd=6/1441

    (۱) محلہ کی مسجد میں اگر جماعت فوت ہوجائے اور دوسری مسجد میں جماعت ملنے کی امید ہو توزیادہ بہتر یہی ہے کہ دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے؛ لیکن اگر محلہ ہی کی مسجد میں تنہا نماز پڑھ لی، تب بھی اچھا ہے اور اگر گھر آکر اہل و عیال کے ساتھ جماعت کی، تو یہ بھی بہتر صورت ہے؛لیکن سب سے بہتر صورت پہلی والی ہے ۔قال فی الخلاصة:(۲۲۸/۱) رجل فاتتہ الجماعة فی مسجدہ ان ذھب الی مسجد آخر یصلی فیہ بالجماعة فہو حسن وان صلی فی مسجد حیہ وحدہ فحسن وان دخل منزلہ فصلی بأہلہ فحسن اھ (نقلا عن امداد الأحکام:۱/ ۵۰۰، زکریا، دیوبند)

    (۲) اگر محلہ کی مسجد میں جمعہ کی نماز چھوٹ جائے، تو اگر دوسری مسجد میں جمعہ کی جماعت ملنے کی امید ہو، تو دوسری مسجد میں جاکر جمعہ کی نماز پڑھنی چاہیے؛ لیکن یہ حکم وجوبی ہے یا استحبابی، اس بارے میں کوئی صریح جزئیہ نہیں مل سکا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند