• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 175008

    عنوان: سات سو آبادی والے گاؤں میں جمعہ فرض ہے یا نہیں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ،مسئلہ ہذا میں کہ گاؤں کی آبادی تقریباً 700 ہے تو کیا جمعہ فرض ہے اس گاؤں میں جمعہ بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد ظہر بھی جماعت سے ہوتی ہے کیا یہ صحیح ہے مدلل و مفصّل تحریر کریں۔

    جواب نمبر: 17500801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 406-294/B=04/1441

    احناف کے نزدیک جمعہ کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ قریہ کبیرہ ہو، قصبہ کے مانند، اس کی آبادی کم از کم ۳-۴/ ہزار کی ہو، وہاں بازار ہو، ضروریات لوگوں کی روز مرہ کی وہیں سے پوری ہوتی ہوں، متعدد کشادہ گلیاں ہوں کہ سواریوں کے آنے جانے کی سہولت ہو، وہاں مدنیت پائی جاتی ہو۔ آپ کا گاوٴں ابھی بہت چھوٹا دیہات ہے، احناف کے یہاں اس میں جمعہ جائز نہیں۔ آپ لوگوں کو جمعہ کے دن ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہئے، نماز جمعہ نہیں پڑھنی چاہئے۔ ابھی صبر سے کام لیں اورگاوٴں کے بڑے ہو جانے کا انتظار کرلیں۔ جب اوپر لکھے ہوئے شرائط پائے جانے لگیں، اس کے بعد مفتیان کرام کو بلاکر معائنہ کرائیں جب وہ لوگ جمعہ کا فیصلہ کردیں، پھر جمعہ کی نماز شروع کریں۔ نماز ظہر اصل ہے جمعہ تو ظہر کا قائم مقام ہے، اصل کو چھوڑ کر قائم مقام کے پیچھے نہ پڑیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند