• متفرقات >> اسلامی نام

    سوال نمبر: 601347

    عنوان:

    قیامت کے دن کس نام سے پکارا جائے گا؟

    سوال:

    حضرت ہماری ایک بہن ہے انکا نام 'رومی ترنم'ہے اب وہ اپنا نام بدل کر 'رقیہ مریم' رکھنا چاہتی ہیں تو حضرت ہمارا سوال یہ ہے کہ ۱:کیا اب نام بدلنا درست ہے جبکہ عقیقہ ہو چکا ہے؟

    ۲:کیا نام بدلنے کے لی? دوبارہ عقیقہ کرنا ہوگا؟

    ۳: 'رقیہ مریم'نام صحیح ہے؟ ۴: قیامت کے دن کس نام سے پکارا جائے گا یعنی جس نام سے عقیقہ ہوا تھا یا اب جو نام رکھا جائے گا؟ فجزا کم اللہ احسن الجزاء۔

    جواب نمبر: 601347

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:238-163/N=4/1442

     (۱، ۲): عقیقے کے بعد بھی نام بدلنا درست ہے اور نام کی تبدیلی کے بعد دوبارہ عقیقے کی ضرورت بھی نہیں؛ البتہ آج کل سرکاری کاغذات (برتھ سرٹفیکیٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی وغیرہ)میں نام تبدیل کرانا آسان نہیں ہوتا؛ بلکہ بڑی دوڑ دھوپ اور محنت نہیں کرنی پڑتی ہے؛ اس لیے اگر سرکاری کاغذات میں ”رومی مریم“ نام درج ہوچکا ہے تو یہی نام رہنے دیا جائے؛ کیوں کہ یہ نام بھی درست ہے۔

    (۳): جی ہاں! ‘’رقیہ مریم“ نام صحیح ہے۔

    (۴): ہر انسان کو کل قیامت کے دن اُس نام سے پکارا جائے گا، جو اُس نے آخر وفات تک باقی رکھا ہو اگرچہ شروع میں اُس کا نام کچھ اور رہا ہویا اُس کا عقیقہ کسی دوسرے نام سے ہوا ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند