• متفرقات >> اسلامی نام

    سوال نمبر: 600425

    عنوان: دَاوَر عالَم نام رکھنا کیسا ہے ؟

    سوال:

    میرا نام بدرِ عالَم ہے ۔ ۲۵دن پہلے میرے گھر میں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے جس کا نام سب گھر والوں نے مل کر دَاوَر عالَم تجویز کیا ہے ۔ عالَم کی نسبت والد کی نسبت سے لگائی گئی ہے ۔ میری راہ نمائی فرمائیں کہ یہ نام اپنے معنی و مفہوم اور دینی لحاظ سے رکھنا درست اور بہتر ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 600425

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:172-191/L=3/1442

     آپ اپنے نام (بدر عالم) کی طرف نسبت کرتے ہوئے اپنے بچے کا نام داور عالم رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں فی نفسہ اس میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ یہ نام اپنے معنی ومفہوم اور شرعی اعتبار سے درست ہے ،اور اس کے معنی منصف بادشاہ کے ہیں۔ (فیروز اللغات :ص 613/ط دار الکتاب دیوبند) تاہم صورت مسؤلہ میں عبد اللہ یا عبد الرحمن یا حضرات انبیاء کرام یا صلحائے امت کے ناموں کے ہم نام لڑکے کا نام رکھنا بہتر ہوگا۔

    (قولہ أحب الأسماء الخ) ہذا لفظ حدیث رواہ مسلم وأبو داود والترمذی وغیرہم عن أبن عمر مرفوعا قال المناوی و عبد اللہ :افضل مطلقا حتی من عبد الرحمن, وافضلہا بعدہما محمد ’ثم احمد ثم إبراہیم اہ ’ وقال ایضا فی موضع آخر :ویلحق بہذین الاسمین ای عبد اللہ و عبد الرحمن ما کان مثلہما کعبد الرحیم و عبد الملک وتفضیل التسمیة بہما محمول علی من اراد التسمی بالعبودیہ ’لأنہم کانوا یسمون غبد شمس وعبد الدار ’فلا ینافی ان اسم محمد واحمد احب الی اللہ تعالی من جمیع الأسماء ’فانہ لم یختر لنبیہ الا ما ہو احب الیہ ہذا ہو الصواب ولا یجوز حملہ علی الإطلاق آہ ’(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین رد المحتار 6/418)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند