• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 69299

    عنوان: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط باتیں کرنا، اُن کا برائی کے ساتھ ذکر کرنا شرعا ناجائز ہے

    سوال: میں نے بہت سارے لوگوں کو (حضرت) معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہوئے سناہے۔ براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 6929901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 995-1022/Sd=1/1438

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلط باتیں کرنا، اُن کا برائی کے ساتھ ذکر کرنا شرعا ناجائز ہے، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول، کاتب وحی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی تھے، ان کی شانِ میں گستاخی کرنا بڑی گمراہی کی بات ہے۔ فسبّہم الطعن فیہم إن کان ممن یخالف الأدلة القطعیة فکفر، کقذف عائشة وإلا فبدعة وفسق، وبالجملة لم ینقل عن السلف المجتہدین والعلماء الصالحین جواز اللعن علی معاویة۔ (شرح العقائد النسفیة ۱۶۱-۱۶۲) ومما یوجب أیضا الإمساک عما شجر أي وقع بینہم من الاختلاف والإضطراب صفحا عن إخبار المؤرخین… والواجب أیضا علی کل من سمع شیئا من ذٰلک یثبتہ فیہ ولا ینسبہ إلی أحد منہم۔ (الصواعق المحرقة ۲۱۶) وأما کف الألسنة عن الطعن فیہم فإن کلا منہم مجتہد وإن کان علی رضي اللّٰہ عنہ مصیبا فلا یجوز الطعن فیہما، والأسلم للمؤمنین أن لا یخوضوا في أمرہما۔ (مرقاة المفاتیح ۱۰/۱۳۱)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند