• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 69190

    عنوان: میدان حشر میں جسم پر بال ہوں گے یا نہیں؟

    سوال: جب حشر کا میدان قائم ہوگا تو لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو جسم کے ساتھ اور کیا جسم پر دنیا میں جہاں بال تھے وہ بال ہوں گے ، کسی بھی انسان سے ملاقات کرتے وقت اس کے بارے میں الہام ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہے تو وہ کیسے ہوتا ہے کوئی عمل بتائیں۔

    جواب نمبر: 69190

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1403-1392/N37=1/1438 (۱): میدان حشر میں لوگوں کے جسم پر بال نہ ہونے کی صراحت ہمیں کسی روایت میں نہیں ملی، البتہ جنتیوں کے بارے میں ہے کہ جنتی لوگ جنت میں اس حالت میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے، ہا ں حشرسے متعلق روایات میں یہ ضرور آیا ہے کہ میدان حشر میں لوگ اس حالت میں اٹھیں گے کہ ننگے پیر ، ننگے جسم اور غیر مختون ہوں گے۔ عن معاذ بن جبل أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: یدخل أھل الجنة الجنة جرداً مرداً مکحلین أبناء ثلاثین أو ثلاث وثلاثین سنة، رواہ الترمذي (مشکاة المصابیح، باب صفة الجنة وأھلھا، الفصل الثاني، ص ۴۹۸، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، قولہ: ”جرد مرد الخ“: جرد جمع أجرد وھو الذي لا شعر علی جسدہ وضدہ الأشعر ومرد جمع أمرد وھو غلام لا شعر علی ذقنہ الخ (ھامش المشکاة، الرقم: ۱)،وعن ابن عباس عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إنکم محشورون حفاة عراة غرلاً ثم قرأ کما بدأنا أول خلق نعیدہ، وعداً علینا إنا کنا فاعلین…متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب الحشر، الفصل الأول ، ص ۴۸۳)۔ (۲): ہر انسان کو الہام نہیں ہوتا، بعض لوگ شیطانی وسوسے کو یا بد گمانی وغیرہ کی عادت کی وجہ سے ذہن میں جو خیال آجائے، اسے الہام سمجھ لیتے ہیں حالاں کہ وہ الہام نہیں ہوتا، اور اگر واقعی کسی نیک ومتقی پرہیزگار بندے کو دوسرے کے بارے میں الہام ہوتا ہے تو اس پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں؛ کیوں کہ الہام محض ظنی چیز ہے اور اگر برا خیال ہے تو محض الہام کی بنا پر اسے صحیح سمجھنا اور اس کے ساتھ اسی جیسا معاملہ کرنا درست نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند