• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 66421

    عنوان: رحم مادر میں ڈاكٹروں كا یہ جان لینا كہ لڑكا ہے یا لڑكی كیا قرآنی آیت پر اعتراض نہیں؟

    سوال: قرآن کی تفسیر کی روشنی میں اللہ کو معلوم ہے کہ ماں کے پیٹ میں لڑکی ہے یا لڑکا ۔جبکہ جدید تحقیق کی مدد سے ایک طریقہ ہے جسے Chornic Villi Sampling کہتے ییں ۔ جس میں غلطی کا امکان نا ہونے کہ برابر ہے یعنی ۹۔۹۹ فی صد درست نتیجہ ہے اس تکنیک کا۔ اس تکنیک میں پیدا ہونے والے بچے کا placenta کا ایک ٹکڑا بطور سیمپل کاٹ لیا جاتا ہے ۔ جس میں کروموسومز کے ذریعہ جنس کا پتا چل جاتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس تکنیک میں ۸۱ سال قبل صرف ایک دفعہ غلط جنس بتائی تھی۔ کیا یہ قرآن کی آیت پر اشکال نہیں ہے ۔

    جواب نمبر: 66421

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1042-1099/L=10/1437 اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اولاً اس تکنیک سے حاصل ہونے والا علم قطعی نہیں اس میں بہرحال غلطی کا احتمال ہے گو اس کا تناسب نہایت ہی کم ہو اور اللہ رب العزت کا علم قطعی ہے جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں، ثانیاً اطباء اعضاء بن جانے کے بعد اس کا پتہ لگاتے ہیں جبکہ اللہ رب العزت کو بالکل ابتداء ہی سے اس کا علم رہتا ہے، ثالثاً آیت میں جو لفظ ہے وہ ”ما“ ہے جو اپنے عموم کے اعتبار سے رحم میں تغیر ہونے والے تمام احوال کو شامل ہے جس کی عمومیت میں یہ بھی داخل ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی فطرت کیسی ہوگی، نیک ہوگا یا بد، بچے کی جنس کیا ہوگی (لڑکا یا لڑکی) بچہ کامل ہوگا یا ناقص، سعید ہوگا یا شقی، غنی ہوگا یا فقیر، اس کی زندگی لمبی ہوگی یا مختصر، عالم ہوگا یا جاہل وغیرہ ان تمام چیزوں کا قطعی اور یقینی علم صرف اللہ کو ہے ، صرف ایک خاص جز کے علم سے اور وہ بھی ظنی طور پر سب کا علم لازم نہیں آتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند