• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 64581

    عنوان: دوست كي ماں سے پیشانی پر تلک لگوانا اور آرتی كرانا؟

    سوال: اگر میں اپنے کسی قریبی دوست سے ملاقات کرنے جارہا ہوں جو غیر مسلم ہے ، لیکن محبت میں میرے اس دوست کی ماں میری پیشانی پر تلک لگالے اور آرتی کرے توکیا یہ اسلام کے مطابق درست ہے یا نہیں؟ اورمیں کس طرح ان کو روک سکتاہوں؟ میں اپنے دوست کی فیملی کا دل توڑنا نہیں چاہتاہوں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 64581

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 507-507/M=6/1437 پیشانی پر تلک لگوانا اور آرتی کرانا خالص ہندوانہ فعل ہے، غیر مسلم سے قلبی دوستی اور دلی لگاوٴ بھی ممنوع ہے، کسی کی دل شکنی کا اس درجہ خیال رکھنا تو جائز نہیں کہ اس کی وجہ سے خدا کی ناراضگی لازم آئے ہاں، غیرمسلم کے ساتھ مدارات اورحسن اخلاق کا معاملہ بلاشبہ جائز ہے اور دعوت الی اللہ کی غرض سے ہو تو مطلوب مستحسن بھی ہے، لیکن حسن اخلاق کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے مذہبی شعار کو اپنایا جائے اور شرکیہ عمل کا ارتکاب کیا جائے، اس لیے صورت مسئولہ میں آپ غیرمسلم دوست کے ساتھ مدارات کی حد تک تعلق رکھیں،موقع مصلحت کا خیال کرکے اسے دین اسلام کی دعوت بھی دیا کریں اور جب تک اسلام قبول نہ کرلے اس سے قلبی لگاوٴ نہ رکھیں اور اس کی ماں تلک وغیرہ لگائے تو حسن تدبیر سے معذرت کردیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند