• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 61476

    عنوان: کیا جناتی اثر ، سفلی علم ، کالا جادو ، نظر بد یا کرنے سے کسی کی موت ہوسکتی ہے یا موت کا وقت اور جگہ اللہ کی طرف سے طے ہے؟

    سوال: کیا جناتی اثر ، سفلی علم ، کالا جادو ، نظر بد یا کرنے سے کسی کی موت ہوسکتی ہے یا موت کا وقت اور جگہ اللہ کی طرف سے طے ہے؟ میرا مسئلہ ایسا ہے کہ میرے تین بیٹوں میں سے اچانک15/05/2015 کوسب سے چھوٹے بیٹے اسد کا انتقال ہوگیا، وہ دیڑھ سال کا تھااور 21/07/2015کومنجھلے بیٹے آفرید کا انتقال ہوگیا ، تقریبا تین سال کی عمر میں، بچے نہ بیمار تھے اور نہ ہی کوئی اور مرض ڈاکٹر کے سمجھ میں آتاہے ، چھوٹا بیٹا اچانک نیند سے اٹھا ، ماں کی طرف روتا ہوا آیا اور گود میں آکر آنکھ پھیر دی ، ہاتھ پیر ٹیر ھے کر دیا اور بیہوش ہوگیا، ڈاکٹر کے پاس لے جاتے وقت دو بار زور سے سانس لیا اور پیشاب کردیا اور ختم ہوگیا، منجھلا بیٹا بھی بس اسٹینڈ کے فلور پر چلتے وقت لڑکھڑا کر معمولی سا گرا ، روتے ہوئے اٹھا ، ماں کی گود میں آکر وہ بھی ویسا ہی کیا اور ختم ہوگیا۔ دوستوں رشتہ داروں کی صلاح پر کئی جانکار لوگوں کو دکھایا ، ہر کسی کا کہنا الگ الگ ہے، کوئی کہتاہے آسیبی ، جناتی اثر ہے، کوئی کہتاہے کہ ندی نالوں سے کچھ لگا ہے، نظر بد لگی ہے، کسی اپنے کا کیا ہواہے۔ منجھلا بیٹا اکثر انتقال سے پہلے اسد کے پاس جانے کے لیے کہتا تھا ، مجھے یہاں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے ؟ رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 61476

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1232-1210/H=12/1436-U یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اس انداز کے حوادثاتِ وفات میں اللہ پاک کی کچھ مصالح ہیں کہ جن تک ہماری عقل کی رسائی مشکل ہے اور ہمارے لیے ان میں خیر پوشیدہ ہے کہ جو اللہ تعالی جل شانہ کے علم میں ہے ان جیسے حوادث پر صبر ہی کا اجر اتنا کثیر ہے کہ عقل اس کے اندازہ سے قاصر ہے، اللہ پاک کا ارشاد ہے: إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَاب․ (پ: ۲۳)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند