• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 606430

    عنوان:

    وسوسے کی بیماری

    سوال:

    نا امیدی کفر ہے . ایک وقت ایسا آیا تھا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے کفر کر دیا ہے . حالانکہ جب میں نے آپ کی ویب سائٹ پر مسئلہ پوچھا تو آپ نے کہا کہ نہیں ہوا. مگر جب مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں مرتد ہو گیا ہوں، تو میں نے مرتد کی بخشش کے بارے میں کافی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی. کء ویڈیو میں یوں کہتے کہ مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوتی تو میں بالکل نا امید ہو گیا تھا. پھر کچھ علما کی ویڈیو ملی کہ قرآن میں ہے کہ اللہ مرتد کو معاف کر دیتا ہے . پھر میں نے خود جب وہ آیت پڑھی تو اس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ جو سیدھے راستے پر آنے کے بعد غلط راستے پر چلا گیا تو اللہ اسے کیسے سیدھی راہ دکھا سکتا ہے . یہ پڑھ کر مجھے لگا کہ مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور میں پھر بالکل نا امید ہو گیا. اس کے بعد پھر میں نے جب آگے پڑھا تو اگے کی آیت کا مفہوم یہ آیا کہ اس سب کے باوجود اگر کوء سچی توبہ کرے تو اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے . پھر اس کو سن کر میری جان میں جان آء. 1. آپ اس معاملے میں بتائیں کیا میں نے نا امید ہو کر کفر کیا؟ 2. کیا یہ آیات مرتد کی توبہ ہونے کے بارے میں ہی ہیں. کیا مرتد کی توبہ قبول ہے ؟ تو کچھ علما کیوں کہتے ہیں کہ نہیں ہے ؟ برائے مہربانی ان آیات کا ترجمہ لکھ کربھیج دیں.۔

    جواب نمبر: 606430

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 201-139/H=02/1443

     ایک تو وساوس کی بیماری میں آپ کو شدید ابتلاء ہے جیسا کہ بہت سے استفتاء میں خود آپ ہی تحریر کرتے رہتے ہیں اور مزید اہل باطل لوگوں کے رطب ویابس مضامین میں دیکھتے رہتے آڈیو اور ویڈیو میں مستقل لگے رہتے ہیں جو کریلا اور نیم چڑھا کا مصداق ہے۔ جو حالات آپ نے اپنے لکھے ہیں اگر وہ صحیح لکھے ہیں تو ان کے پیش نظر آپ پر ارتداد کا حکم لاگو نہیں ہوتا، ایسی صورت میں اس بحث میں آپ کیوں پڑتے ہیں کہ مرتد کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ وسوسہ کی بیماری اس بحث میں پڑنے کی وجہ سے مزید بڑھ جائے، اللہ پاک آپ کو ظاہری و باطنی بیماری سے شفاء کلی عطاء فرمائے۔ آمین


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند