• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 605428

    عنوان:

    عصمت انبیاء کا دائرہ کیا ہے؟

    سوال:

    علماء کرام و مفتیان عظام سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کہ مہربانی کرکے میرے قلب کی تسکین فرمایں ۱) علماء سے سنا ہے کہ بھلے ہی انبیاء معصوم ہیں لیکن انسانی غلطیاں بھول اور اجتہادی خطاء کر سکتے ہیں ، کیا یہ صحیح ہے ؟ ۲) ایک معروف و مشہور عالم (مفتی طارق مسعود حفظہ اللہ) نے ایک روایت بیان کی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز ظہر یا عصر پڑھائی اور تین رکعت پر سلام پھیر دیا ، اس پر اصحاب کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ،یا تو آپ سے بھول ہوء ہے یا اللہ نے رکعات کم کر دی ہیں پھر آپ علیہ السلام نے نماز پوری کری اور سجدہ سحو فرمایا حضرت مفتی صاحب نے اس حوالے سے فرمایا کہ اسّے پتا چلتا ہے کہ انبیاء بھی بھول سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی بشر ہیں ، کیا یہ استدلال اور عقیدہ درست ہے ؟ ۳) حضرت کے اس بیان پر بعض حضرات نے بہت تنقید کی اور کہا کہ انبیائنہ تو بھولتے ہیں اور نہ ہی غلطی کرتے ہیں بلکہ رب العالمین امت کو مسلہ بتانے کے لئے انہیں بھلاتے ہیں ، یہ کیسی بات ہے ؟ ۴) جن لوگوں نے تنقید کری انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء بھولتے ہیں تو یہ قرآن پاک پر بھی اعتراض آیگا کہ کہیں نبی سے قرآن کو یاد کرنے یا سنانے لکھوانے میں بھی تو غلطیاں نہیں ہو گئیں (اعوذباللہ من ذلک)، وہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عقیدہ سے تو پورا قرآن اور شریعت شک کے دائرے میں آتے ہیں اعوذباللہ ، اسکا جواب بھی دے دیں ۵) عصمت انبیاء اور انبیاء کے بھولنے کے عقیدے پر کوئی اردو کتاب یا رسالا بھی بتا دیں تاکہ ہم اس موضوع کو تفصیل سے پڑھ کر صحیح علم و عقیدہ کے حامل ہو سکیں آپ حضرات سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد اسکا جواب دیں تاکہ میرے پریشان قلب کی تسکین ہو سکے ۔

    جواب نمبر: 605428

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:954-339T/sn=12/1442

     اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق حضرات انبیائے کرام صغیرہ کبیرہ ہر طرح کے خطا سے معصوم ہیں؛ ان سے وحیِ الٰہی اور تبلیغِ احکام میں خطا اور نسیان کا صدور ممکن نہیں ہے ؛ البتہ بعض اوقات بہ مقتضائے بشریت نبی کو ذاتی فعل میں سہو ونسیان کا صدور ہوجانا ممکن ہے،جیسے آں حضرت ﷺ کو ایک مرتبہ نماز میں سہو پیش آیا(جس کا ذکر سوال میں بھی کیا گیا ہے) اور ایک مرتبہ سفر میں غلبہ نیند کی وجہ سے نماز قضا ہوگئی؛ لیکن یہ بھی معلوم رہنا چاہئے کہ یہ سہو بر بنائے غفلت نہ تھا؛ بلکہ من جانب اللہ تھا ؛ تاکہ امت کو سجدہ سہو اور قضائے فائتہ کا حکم معلوم ہوجائے۔(دیکھیں: عقائد الاسلام ،حصہ دوئم،ص:65)

    قال ابن الہمام: والمختار أی عند جمہور أہل السنة العصمةُ عنہا أی عن الصغائر والکبائر غیر المنفردة خطأً أو سہواً إلخ (شرح الفقہ الأکبر، ص:72، ط: المکتبة الأشرفیة، دیوبند)

    اوپر کی تفصیل سے نفس مسئلہ واضح ہوگیا، ہمیں اسی کے مطابق عقیدہ رکھنا چاہئے اور عوام کے سامنے اسے موضوع بحث بنانے سے احتراز کرنا چاہئے۔ نوٹ: مزید تفصیل کے لئے محولہ بالا دونوں کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند