• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 605281

    عنوان:

    قبولیت دعا سے مایوس ہوکر خدا کی شان میں کہنا ”آپ کسی کام کے رب نہیں ہو“

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں : کے ایک شخص ہے جو اللہ کی ذات و صفات اور قدرت پر ایمان رکھتا ہے ، وہ شخص اللہ سے مستقل ایک ہی دعا کرتا ہے ، عرصہ گزر گیا اللہ سے ایک ہی دعا کرتے ہوے ، تو ایک دن وہ شخص اللہ سے وہ ہی دعا کر رہا تھا اور اسے دعا کے دوران غصہ آگیا کہ روزانہ ایک ہی دعا کرتا ہوں پر اللہ اسے قبول نہیں کر رہا ہے تو اس نے دورانِ دعا غصے میں کہا کہ آپ کسی کام کے رب نہیں ہو میری دعا تو قبول کرتے نہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ اس شخص پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے یا نہیں ؟ برا ئے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 605281

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:925-309T/SN=12/1442

     اگر اس شخص نے فی الواقع یہ جملہ ”آپ کسی کام کے رب نہیں ہو“ کہا تو اس کا ایمان جاتا رہا، اس پر توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ تجدیدِ ایمان وتجدید نکاح بھی ضروری ہے ۔

    یکفر إذا وصف اللہ تعالی بما لا یلیق بہ....أو نسبہ إلی الجہل، أو العجز، أو النقص․ (الفتاوی الہندیة 2/ 258،کتاب السیر، مطلب فی موجبات الکفر، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)

    واضح رہے کہ دعا کی قبولیت میں جلدی نہ کرنی چاہئے ، احادیث میں اس سے ممانعت آئی ہے ، علما نے قبولیتِ دعا کی مختلف شکلیں تحریر فرمائی ہیں، مثلا: بسا اوقات مانگی ہوئی چیز بعینہ مل جاتی ہے ، بسا اوقات بعینہ وہ چیز تو نہیں ملتی ؛ لیکن اس سے بہتر چیز آخرت میں مل جاتی ہے ، ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اپنی ضروریات اللہ سے مانگتا رہے ۔(دیکھیں: جواہر الفقہ2/245 وبعدہ، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند