• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 604335

    عنوان:

    چار لڑكیوں اور دو لڑكوں كے درمیان وراثت كی تقسیم

    سوال:

    حاجی وکیل صاحب نے دو سال پہلے زمین فروخت کی تھی جس کی رقم ابھی تک بھی دستیاب نہیں ہوسکی ، اب سے سال بھر پہلے حاجی جی کا انتقال ہوگیا تھا ،اہلیہ بھی فوت ہوچکی ہیں ،پسمادگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں جو ماشاء للہ سب صاحب اولاد ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ زمین کی جو رقم ملے گی شریعت کی رو سے اس میں کون کون حقدار ہے،صرف دونوں بھائی یا بہنیں بھی ؟ اگر بہنیں بھی حصہ دار ہوگی تو کس کو کتنا حصہ ملے گا؟(وضاحت)حاجی جی نے جو وصیت کی تھی اس میں اس بات کا (زمین کی رقم کے تعلق سے) کوئی ذکر نہیں ہے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دیکر فارغ کر چکا ہوں۔ اب جو بھی کچھ ہے دونوں بیٹوں کا ہے جواب عطاء فرمائیں ۔

    جواب نمبر: 604335

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:868-662/L=9/1442

     زندگی میں جو کچھ والد اپنی اولاد کو دیتا ہے اس کی حیثیت تبرع اور انعام کی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اولاد کا حق وراثت سے ساقط نہیں ہوتا ؛ اس لیے حاجی وکیل مرحوم نے جو کچھ ترکہ چھوڑا ہے اس میں مرحوم کی تمام بیٹیوں کا بھی حصہ ہوگا اگر مرحوم کی وفات کے وقت ان کے والدین ،دادا ، دادی نانی میں سے کوئی حیات نہ رہا ہو تو مرحوم کا تمام ترکہ /۸حصوں میں منقسم ہوکر /۲ /۲حصے دونوں لڑکوں میں سے ہر ایک کو اور ایک ایک حصہ تمام لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ملے گا ۔واضح رہے کہ مرحوم کے اس کہنے سے کہ ”میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے کر فارغ کر چکاہوں الخ“ سے بیٹیوں کا حق ساقط نہ ہوگا ۔

    مسئلہ کی تخریج شرعی درج ذیل ہے ۔

    لڑکی = 1

    لڑکی = 1

    لڑکی = 1

    لڑکی = 1

    لڑکا =2

    لڑکا =2


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند