• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 602022

    عنوان: آنکھ بند کرکے نماز پڑھنا ؟

    سوال:

    کیا آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 602022

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:390-295/SN=5/1442

     نماز میں آنکھیں کھلی رکھنی چاہئے ؛ بند کرکے نماز پڑھنامکروہ ہے ، ہاں اگر کسی کوآنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کی صورت میں خشوع وخضوع زیادہ حاصل ہوتا ہو تو پھر کراہت نہ رہے گی ۔

    ویکرہ للمصلی أیضا أن یغمض عینیہ، قیل:لأنہ من صنیع أہل الکتاب، وقال فی الاختیار لأنہ علیہ الصلاة والسلام نہی عنہ. (غنیة المتملی،351، مطبوعة: مکتبة سہیل، لاہور)

    (وتغمیض عینیہ) للنہی إلا لکمال الخشوع (الدر المختار)(قولہ للنہی) أی فی حدیث إذا قام أحدکم فی الصلاة فلا یغمض عینیہ رواہ ابن عدی إلا أن فی سندہ من ضعف وعلل فی البدائع بأن السنة أن یرمی ببصرہ إلی موضع سجودہ، وفی التغمیض ترکہا. ثم الظاہر أن الکراہة تنزیہیة، کذا فی الحلیة والبحر، وکأنہ لأن علة النہی ما مر عن البدائع، وہی الصارف لہ عن التحریم (قولہ إلا لکمال الخشوع) بأن خاف فوت الخشوع بسبب رؤیة ما یفرق الخاطر فلا یکرہ، بل قال بعض العلماء إنہ الأولی، ولیس ببعید حلیة وبحر․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 413،کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا،مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند