• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 601549

    عنوان:

    جن كو واضح طور پر دعوت نہیں پہنچی ان كے بارے میں كیا حكم ہے؟

    سوال:

    جن لوگوں تک اسلام کی واضح طور پر دعوت نہیں پہنچی، ان کے بارے میں قیامت میں کیا فیصلہ ہو گا،دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں بھی وضاحت کر دیں ۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 601549

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 293-229/D=05/1442

     واضح طور پر دعوت نہ پہونچنے کا کیا مطلب ہے؟ موجودہ وقت میں رسائل اور وسائل مواصلات کے کثرت کی بناپر دعوت عام ہوچکی ہے۔

    پھر بھی اگر کہیں دعوت نہ پہونچی ہو تو اللہ تعالی نے انسان کو جو عقل عطا فرمائی ہے جس سے وہ اچھے برے کی تمیز کرسکتا ہے اور مصنوعات پر نظر کرکے صانع حقیقی تک رسائی حاصل کرسکتا ہے پس صاحب عقل (جو دیوانہ مجنون نہ ہو) پر لازم ہے کہ اللہ تعالی کی مخلوقات زمین و آسمان چاند ستاروں کی کمال صنعت میں غور کرکے اس کے صانع تک رسائی حاصل کرے اور عقل ہی سے وہ اس نتیجہ پر پہونچ سکتا ہے کہ خالق کائنات صرف تنہا ایک ذات ہے جو کسی کی محتاج نہیں سب اس کے محتاج ہیں، اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالی رسولوں کو مبعوث نہ فرماتا تو بھی انسانوں پر اللہ تعالی کی معرفت اپنی عقلوں کے ذریعہ واجب ہوتی۔ وروی الحاکم الشہید فی المنتقی عن ابی حنیفة رحمہ اللہ انہ قال لا عذر لاحد فی الجہل بخالقہ لما یریٰ فی خلق السمٰوات والارض وخلق نفسہ وسائر مخلوقاتہ ، وعنہ ای عن ابی حنیفة رحمہ اللہ انہ قال لو لم یبعث اللہ رسولاً لوجب علی الخلق معرفتہ بعقولہم ونقل ہٰوٴلاء یعنی الاستاذ ابا منصور وعامة مشائخ سمرقند (کتاب المسامرہ، ص: 75) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند