• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 60134

    عنوان: مفتی جی اگر عقیدہ کے بارے میں کوئی وسوسہ آے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہ پتا ہو کہ وہ ٹھیک ہے یا شیطانی خیال اس پر کوئی جواب نہ دیا جاے نہ مثبت نہ منفی اس پہ توجہ بھی نہ دی جاے یا اس کو جھڑک دیا جاے تو اس صورت میں ایمان پر کوئی نقصان تو نہیں ہوتا اگر وہ وسوسہ ٹھیک بھی ہو؟

    سوال: ۱) مفتی جی اگر عقیدہ کے بارے میں کوئی وسوسہ آے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہ پتا ہو کہ وہ ٹھیک ہے یا شیطانی خیال اس پر کوئی جواب نہ دیا جاے نہ مثبت نہ منفی اس پہ توجہ بھی نہ دی جاے یا اس کو جھڑک دیا جاے تو اس صورت میں ایمان پر کوئی نقصان تو نہیں ہوتا اگر وہ وسوسہ ٹھیک بھی ہو؟ ۲) مفتی جی نیکی اور شر کا علم اللہ کی طرف سے آتا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق شیطان دماغ میں خیالات لاتا ہے ،مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر شیطان شر کا علم پھیلاتا ہے تو یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ شر کا علم اللہ کی طرف سے آتا ہے ؟ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 6013401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 624-589/Sn=9/1436-U (۱) نہیں، اس صورت میں ایمان پر کوئی نقصان نہیں ہوتا؛ بلکہ وسوسہ کا بہترین علاج یہ ہے کہ اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی جائے اور استغفار کی کثرت کی جائے، احادیث میں اس کی تعلیم آئی ہے، (مسائل تصوف، موٴلفہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ) (۲) بلاشبہ خیر وشر دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے؛ البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے شیطان کو یہ ا ختیار دیا کہ وہ لوگوں کے دل میں برے وساوس ڈالے اور انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کرے، بس یہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، شیطان کی طرف نسبت مجازاً ہے۔ بندوں کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے بچتے رہیں اور ان کے تقاضے پر عمل نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند