• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 60074

    عنوان: اللہ کی ذات کے متعلق علماء دیوبند کا موقف

    سوال: کیا یہ صحیح ہے ؟اللہ کی ذات کے متعلق علماء دیوبند کا موقف ۔تمام اہلسنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وقال الإمام الحافظ الفقیہ أبو جعفر أحمد بن سلامة الطحاوی الحنفی (321 ھ) فی رسالتہ (متن العقیدة الطحاویة)ما نصہ: "وتعالی أی اللہ عن الحدود والغایات والأرکان والأعضاء والأدوات، لا تحویہ الجہات الست کسائر المبتدعات " اہ. امام الطحاوی الحنفی (وفات 321ھ) کبار علماء السلف میں سے ہیں اپنی کتاب (العقیدة الطحاویة جو کہ تمام اہلسنت والجماعت کہ ہاں مسلم ہے ) فرماتے ہیں اللہ تعالی مکان و جھت و حدود سے پاک ہے ۔ (متن عقیدہ طحاویہ ص 15) اب ہر وہ عقیدہ جس سے اللہ کیلئے حدود ، جسم یا جھت ثابت ہوتی ہے اسے علماء دیوبند ترک کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہر جگہ ہے اس کا علماء دیوبند کے نزدیک کیا معنی ہے ؟ علماء دیوبند کے نزدیک اللہ تعالٰی جگہ/مکان میں ہونے سے پاک ہے یعنی اللہ موجود ہے مگر بلا مکان۔ حضرت تھانوی فرماتے ہیں : (اللہ تعالٰی کے ) ہر جگہ ہونے کے اس عقیدہ ہی کی کوئی دلیل نہیں۔ جب وہ صرف جگہ میں ہونے سے پاک ہے کئی جگہوں میں اس کا ہونا تو بہت دور کی بات ہے ۔ آگے لکھتے ہیں اگر چہ اس محاورہ (اللہ ہر جگہ ہے ) میں گنجائش زیادہ ہے کیونکہ اس سے مراد کسی جگہ میں ہونے کی قید کا نہ ہونا ہے ۔ (تسھیل تربیت السالک ج 3 صفحہ 118) یعنی کہ علماء دیوبند کے نزدیک اللہ ہر جگہ کہنے سے کسی جگہ میں اللہ کی قید کی نفی کرنا ہے ۔ جیسے کوئی کہے کہ اللہ یہاں ہے وہاں نہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے ۔علماء دیوبند کے نزدیک ایسا کہنا کہ اللہ عرش پر ہے یا آسمانوں پر ہے اور اس کا علم ہر جگہ ہے کہنا بھی درست ہے ۔ بشرطیکہ اللہ کی ذات کی تخصیص یا اسکی ذات کیلئے کوئی جگہ مقرر کرنی نہ ہو۔ مقصود اِس نفی سے اُس بات کی نفی کرنی ہو جو اللہ کی شان کے لائق نہ ہو اور اس سے کوئی لازم سمجھ سکتا ہو۔ایسی ہی ایک جگہ حضرت تھانوی فرماتے ہیں : میرے نزدیک جن حضرات نے احاطہ ذاتی کی نفی کی ہے غالباً مقصود ان کا نفی کرنا ہے تجسیم (جسم) کی۔ یعنی احاطہ ذاتی سے متبادر محیط و محاط کا اتصال حسی ہے جو کہ عامہ (عامی) کے نزدیک احاطہ ذاتی کی لوازم سے ہے پس اصل مقصود لازم کی نفی ہے اور اس کیلئے ملزوم کی نفی کر دی جاتی ہے ۔ (امداد الفتاویٰ جلد 6 ص 63) کیونکہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلاف نے باطل گروہوں کے عقائد کی نفی کیلئے یا کم فہموں کیلئے ان باتوں کا درجہ ظن میں اثبات کیا ہے جو کہ وہ پہلے نہیں کیا کرتے تھے ۔علماء دیوبند کے عقائد کی کتاب المہند علی المفند جس پر علماء حرمین کے بھی دستخط موجود ہیں اس میں ایک جگہ علماء حرمین کی طرف سے یہ سوال ہوا ہے کہ ماقولکم فی امثال قولہ تعالی الرحمن علی العرش استوی ہل تجوزون اثبات جہة و مکان للباری تعالی ام کیف رایکم فیہ ترجمہ: کیا کہتے ہیں حق تعالٰی کے اس قسم کے قول میں کہ رحمٰن عرش پر مستوی ہوا، کیا جائز سمجھتے ہو باری تعالٰی کیلئے جہت و ماکن کا ثابت کرنا یا کیا رائے ہے ؟ الجواب قولنا فی امثال تلک الایات انا نؤمن بہا و لا یقام کیف و لومن باللہ وسبحانہ و تعالٰی متعال و منزہ عن صفات المخلوقین وعن سمات النقص والحدوث کما ہو رای قد مائنا واما ما قال المتاخرون من ائمتنا فی تلک الایات یا ولونہا بتاویلات صحیحة سائغة فی اللغة و الشرع بانہ یکمن المراد من الاستواء الاستیلاء و من الید القدرة الی غیر ذلک تقریباً الی افہام القاصرین فحق ایضا عندنا و اما الجہة والمکان فلا نجوز اثباتہما لہ تعالٰی ونقول انہتعالی منزہ و متعال عنہما وعن جمیع سمات الحدوث ترجمہ: اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے یقین جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص و حدوث کی علامات سے مبرا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلا یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے ۔ البتہ جہت و مکان کا اللہ تعالٰی کیلئے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت و مکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ و عالی ہے ۔(المہند علی المفند ص 38۔39)بائن الخلة مخلوق سے جدا علماء دیوبند کے نزدیک اللہ تعالٰی کی ذات قدیم ہے جیسا اللہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے تھا اب بھی ویسا ہی ہے ۔پھر اس نے مخلوقات کو پیدا فرمایا اور کسی مخلوق میں یہ ہمت نہیں کہ پیدا ہونے کے بعد وہ خدا کی ذات کے ساتھ متحد ہو جائے ۔ مولانا ادریس کاندھلوی فرماتے ہیں:حق تعالٰی کسی چیز کے ساتھ متحد نہیں ہوتا اور نہ کوئی چیز اس کے ساتھ متحد ہوتی ہے اور نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے اور نہ وہ کسی شئے میں حلول کرتا ہے ۔(عقائد اسلام ص 59) اللہ اپنی ذات کے ساتھ متحد ہے کا عقیدہ دو طرح سے نکل سکتا ہے ایک یہ کہ اللہ کی ذات کو جسم و جھت سے پاک نہ مانا جائے اور دوسرا اس طرح کہ اللہ کی ذات کیلئے کوئی جگہ مقرر کر دی جائے اور کہا جائے کہ اس کے بعد سے اللہ کی ذات نہیں پھر مخلوقات شروع ہوتی ہیں۔ اب جہاں سے بھی اللہ کی ذات ختم قرار دی جائے گی پھر اس عقیدے سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ کی ذات اور اس کے بعد جو بھی مخلوقات ہیں وہ آپس میں متحد ہیں یا اگر اللہ کی ذات اور مخلوق کے درمیان کوئی فاصلہ مقرر کر دیتے ہیں تو وہ فاصلہ بھی غیر اللہ یعنی کہ مخلوقات میں ہی شامل ہو گا۔ اسلئے اب کسی بھی طرح یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔

    جواب نمبر: 60074

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 763-810/N=10/1436-U زیر بحث مسئلہ میں امداد الفتاوی (۶: ۲۵-۲۹، سوال: ۴۱۱، ۴۱۲) فتاوی دارالعلوم دیوبند (۱۸: ۱۰۵-۱۰۹، سوال: ۹۶-۱۰۲) اور فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل (۱: ۲۴۴، ۲۴۵، سوال: ۶۸، ۲۱:۳۴، ۳۵، سوال: ۹۸۹۰) بھی ملاحظہ فرمالیں اور ان تمام فتاوی اور تحریرات سے جو ثابت ہوتا ہے ذات باری تعالی کے متعلق وہی علمائے دیوبند کا موقف ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند