• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 600121

    عنوان:

    نور محمد صلی اللہ کہنا کیسا ہے؟

    سوال:

    آج کل یوٹیوب پہ جو نعت مشہور ہے، حسبی ربی جل اللہ مافی قلبی غیر اللہ، نور محمد صلی اللہ ، لا الہ الا اللہ، کیا اس نعت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نور کہا گیا ہے؟اور عام طورپر سے بچوں تک زبان پر ہے، اس نعت کو پڑھنا یا سننا چاہئے یا نہیں؟ اور یہ بہت عام ہوگیاہے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600121

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:86-66/L=2/1442

     نور کے معنی روشنی کے ہیں اور روشنی چونکہ خود بھی ظاہر ہوتی ہے اور دوسری اشیاء کو ظاہر اور روشن کردیتی ہے ،اسی مناسبت سے حضراتِ انبیاء کرام کو بھی نور کہا جاتا ہے ؛اس لیے کہ وہ خود بھی ہدایت پر ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی وصول الی اللہ کے راستوں کو ظاہر کرنے والے اور صراطِ مستقیم کی ہدایت کرنے والے ہوتے ہیں ،اس اعتبار سے آپ ﷺ بھی نور ہیں اور اس معنی کو مراد لیتے ہوئے آپﷺ کو نور کہنے میں مضائقہ نہیں،اور اس نیت سے نعت سننے یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ،قرآن کریم میں بھی دینی ہدایت کو نور اور گمراہی کو ظلمات فرمایا گیا ہے ۔((أَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَأَحْیَیْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُورًا یَمْشِی بِہِ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُہُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْہَا)) (الأنعام:122) ؛البتہ نور سے نوری مخلوق مراد لینا صحیح نہیں ،یہ قرآن واحادیث کی تصریحات کے خلاف ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند