• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 58029

    عنوان: صغیرہ اورکبیرہ گناہ میں فرق؟

    سوال: (۱) صغیرہ اورکبیرہ گناہ میں فرق؟ (۲) کبیرہ گناہ کے لیے توبہ کیوں مانگی جاتی ہے ؟ کیا یہ نیت کرنے سے معاف نہیں ہوتا کہ میں اب ایسا گناہ نہیں کروں گا؟ (۳) توبہ کے لیے صلاة التوبہ پڑھنی ضروری ہے ، اس کا اور کیا طریقہ ہے؟ (۴) بہت سی کتابوں میں ۷۰ استغفار دے رکھے ہیں ۱۰ روز پڑھنے کے لیے اردو زبان میں؟ انہیں پڑھنا بہتر ہے؟

    جواب نمبر: 58029

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 365-368/N=5/1436-U (۱) صغیر کا مطلب: چھوٹا گناہ اور کبیرہ کا مطلب: بڑا گناہ۔ اور صغیرہ گناہ نیک اعمال سے بھی معاف ہوجاتے ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں ہے: إِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئٰتِ (سورہٴ ہود: ۱۱۴) جب کہ کبیرہ گناہوں میں توبہ ضروری ہوتی ہے۔ (۲) توبہ میں تین چیزیں ہیں: ایک گناہ چھوڑدینا، دوسرے: ا س پر نادم وپشیمان ہونا، اور تیسرے: آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ جب تینوں باتیں پائی جائیں گی تو توبہ متحقق ہوگی ورنہ نہیں وللتوبة ثلاثة أرکان: أن یقلع عن المصعیة ویندم علی فعلہا ویعزم أن لا یعود إلیہا (شرح النووي علی الصحیح لمسلم ۱:۵۶)۔ (۳) توبہ کے لیے صلاة التوبہ ضروری نہیں، اور اگر پڑھ لی جائے تو بہتر ہے بالخصوص جب کہ گناہ بڑا ہو یا جملہ گناہوں سے توبہ کرنی ہو۔ اور اس کا طریقہ عام نفل نمازوں کی طرح ہے البتہ نیت صلاة التوبہ کی کی جائے۔ (۴) ۷۰/ استغفار والی کتاب بھیج کر اس کے متعلق سوال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند