• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 56849

    عنوان: اگر کوئی عورت اللہ کے حکم کو بجانہیں لاتی ہے تو اللہ کا اس پر عذاب ہوگااور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے بغیر ۹۶ کلو میٹر کا سفر کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، سوال یہ ہے کہ عذاب اور لعنت میں کونسا زیادہ خطرناک ہے؟

    سوال: (۱) اگر کوئی عورت اللہ کے حکم کو بجانہیں لاتی ہے تو اللہ کا اس پر عذاب ہوگااور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے بغیر ۹۶ کلو میٹر کا سفر کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، سوال یہ ہے کہ عذاب اور لعنت میں کونسا زیادہ خطرناک ہے؟ (۲) دو سال پہلے میں نے اپنے دوست کو 5000 ہزا رورپئے دیئے تھے اور جب انہوں نے مجھے پیسے دئیے تو 7000 دیئے ، تو کیا یہ میرے لیے یہ رقم لینا حلال ہے؟ (۳) ایک لڑکا غلط نیت اور بری نگاہ سے لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھتاہے تو اس کو کونسی سزا ہوگی؟اور وہ اس گناہ سے کیسے بچ سکتاہے؟

    جواب نمبر: 56849

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 190-190/Sd=4/1436-U (۱) عذاب اور لعنت دونوں ہی خطرناک ہیں، لعنت کا مطلب ہے کہ بندہ دنیا میں اللہ کی رحمت سے دور کردیا جائے اور آخرت میں بھی اس پر مواخذہ ہو، گویا لعنت بھی اللہ کا عذاب ہے۔ اللعنة شرعاً: إبعاد اللہ من رحمتہ في الدنیا بانقطاع التوفیق وفي العقبی بالابتداء بالعقوبة․ (قواعد الفقہ: ص۴۵۴) واللعنةُ العذاب․ (المعجم الوسیط: ۲/۸۲۹، باب اللام) (۲) اگر آپ کے دوست نے دو ہزار زائد روپے اپنی طرف سے بطور احسان وتبرع کے دیے ہیں، قرض کے قت اضافہ کا کوئی معاملہ طے نہیں ہوا تھا، تو آپ کے لیے شرعاً اس رقم کا لینا جائز ہے، قرض کی واپسی میں کچھ زیادہ دینا مستحسن ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ قرض لیا تھا، پھر اپنی طرف سے اضافے کے ساتھ ان کی رقم واپس فرمائی، عن جابر رضي اللہ عنہ قال: کان لي علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم دَین، فقضی لي وزادني (مشکاة: ص۳۵۳، باب الإفلاس والأنظار) قال الملا علي القاري: من استقرض شیئًا، فرد أحسن أو أکثر منہ من غیر شرطہ، کان محسنًا ویجل ذلک للمقرض، وقال النووي: یجوز للمقرض أخذ الزیادة سواء زاد في الصفة أو في العدد- وفي الحدیث دلیل علی أن ردَّ الأجود في القرض أو الدین من السنة ومکارم الأخلاق، ولیس ہو من قرض جَرَّ منفعةً (مرقاة المفاتیح: ۶/۱۱۷، باب الإفلاس والأنظار) (۳) اجنبی عورتوں کو دیکھنا گناہ کبیرہ ہے، احادیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ (بری نیت) سے دیکھنے والے پر لعنت فرماتے ہیں (طبرانی) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدنظری کو آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے، ا لعینان تزنیان وزناہا النظر (مشکاة: ص: ۳۷۰) دوسری طرف نگاہوں کی حفاظت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی ضمانت لی ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو قلبی سکون عطا فرماتے ہیں۔ (الترغیب والترہیب، مسند احمد) مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ بدنظری پر جو وعیدیں آئی ہیں، اسی طرح آنکھوں کی حفاظت پر جو فضائل وارد ہوئے ہیں، دونوں کا استحضار رکھے، ان شاء اللہ وہ اس گناہ سے محفوظ رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند