• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 56080

    عنوان: جنت میں مباشرت

    سوال: میں نے ایک جگہ پڑھا کہ مباشرت تین اسباب کے لیے بنائ کئ ہے ۔ پہلا سبب ہے نطفہ کے اخراج کیلیے کہ اس کے اندر ہی جمع رہنے سے تکلیف ہو سکتی ہے ۔دوسری وجہ یہ لکھی تھی کہ انسانی نسل کو اس وقت تک بڑھانے جس وقت تک اللہ نے متعین کر رکھا ہے ۔اہو تیسری وجہ یہ لکھی تھی کہااپنے جنسی اور جسمانی خواہشات پورا کرکے لطف حاصل کرنے کیلیے ۔اس کے بعد یہ لکھا تھا کہ جنت میں مباشرت صرف تیسری غرض یعنی جنسی خواہش پورا کرکے مزہ حاصل کرنے کیلیے کیا جائیگا۔میں سوچتا رہا کہ جنت میں ہم کس سے مباشرت کریں گے ۔کیا یہ سچ ہے ؟ اس میں میری رہنمائ فرمائیں۔جزاک اللہ۔

    جواب نمبر: 56080

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1340-1122/D=12/1435-U یہ باتیں آپ نے کس کتاب میں پڑھی ہیں اس کتاب کا نام لکھنا چاہیے تھا، بہرحال مباشرت جو حلال طریقے سے ہو مثلاً نکاح کے ذریعہ اس کا مقصد اصلی دو ہے۔ (۱) نسل انسانی میں اضافہ کرنا۔ (۲) عفت وپاکدامنی، ان کے علاوہ دوسری باتیں نکاح کا مقصد اصلی نہیں اگرچہ نکاح ان کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، البتہ جنت میں ہمبستری حصول لذت کے لیے ہے، اس کے لیے جنتی حوریں بھی ملیں گی اور ان کی دنیا والی بیوی بھی انتہائی حسن وجمال سے مزین اور ظاہری وباطنی گندگیوں سے پاکیزہ ہوکر ملیں گی، اور اگر کوئی شخص دنیا میں بے شادی شدہ تھا تو کسی غیرشادی شدہ عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے گا۔ قال اللہ تعالی: وابتغوا ما کتب اللہ لکم، وقال تعالی ہن لباس لکم وأنتم لباس لہن، وفي الشامیة فإن کونہ (النکاح) عبادة في الدنیا إنما ہو لکونہ سببًا لکثرة المسلمین ولما فیہ من الإعفاف الخ (ج۴ ص۵۸-۵۹،ط زکریا) وقال تعالی وحور عین، وقال ولہم فیہا أزواج مطہرة وقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم أدنی أہل الجنة الذي لہ ثمانون ألف خادم واثنتان وسبعون زوجة (مشکاة ج۲ ض۴۹۹ ط اشرفی) وقولہ علیہ السلام لعائشة فأنت زوجتي في الدنیا والآخرة․ وفي الدر المختار لیس لنا عبادة شرعت من عہد آدم علیہ السلام إلی الآن ثم تستمر في الجنة إلا النکاح والإیمان․ (درمختار علی رد المحتار ۴/۵۷ ط زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند