• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 56058

    عنوان: حلولیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ ہر چیز میں موجود ہے تو ہم میں اور ان کے عقیدے مین کیا فرق ہے

    سوال: دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر ایک فتوی منقول(7/1432,860=1023) ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر چیز میں موجود ہے سوال اس میں یہ ہے کہ حلولیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ ہر چیز میں موجود ہے تو ہم میں اور ان کے عقیدے مین کیا فرق ہے کیونکہ وہ بھی اللہ کو ہر چیز میں مانتے ہیں اور ہم بھی اس کو مانتے ہیں۔ نیز ہر جگہ ہونے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اللہ تعالی کو ان جگہوں میں ماناجائے جو اللہ کے شان کے مناسب نہیں ہے ۔ اگر اس عقیدہ کی وضاحت مکمل طریقے سے ہوجائے کہ اس میں ہمارے اکابر کا مسلک کیا ہے اور ہم کیا اعتقاد رکھیں اللہ آپکی عمر میں اور علم میں برکت عطا فرمائے آمین

    جواب نمبر: 56058

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1338-274/D=1/1435-U87 قرآن وحدیث کے بعض نصوص مثلاً ”وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ“، ”مَا یَکُونُ مِنْ نَجْوَی ثَلَاثَةٍ إِلَّا ھُوَ رَابِعُھُمْ“، نیز حدیث ”لَوْ أَنَّکُمْ دَلَّیْتُمْ بِحَبْلٍ إِلَی الأَرْضِ السُّفْلَی لَھَبَطَ عَلَی اللَّہ“ (ترمذي رقم: ۳۲۹۸) وغیرہ کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ”ہرجگہ موجود ہے“ بلاشبہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے؛ لیکن ہرجگہ موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تبارک وتعالی کوئی جسم ہے جو ہوا کی طرح ہرجگہ پھیلا اور بھرا ہوا ہے، کیوں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا مکان کے ساتھ مقید ہونا اور مجسم ہونا لازم آتا ہے، جس سے ذات باری تعالیٰ مبرا اورمنزہ ہے، پھر آخر اس طرح کے نصوص کی صحیح مراد کیا ہے؟ تو اس سلسلہ میں اہل سنت والجماعت کے دو موقف ہیں: (۱) جمہور سلف فقہاء ومحدثین کا موقف اس طرح کی نصوص کے سلسلہ میں ”تنزیہ مع التفویض“ کا ہے یعنی نصوص میں جو صفات اللہ رب العزت کے لیے ثابت کی گئی ہیں، مثلاً: ”یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ“ (الفتح:۱۰) میں ”ید“ اور ”الرَّحْمَنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی“ (طہ: ۵) میں ”استواء علی العرش“ اور ”ھُوَ مَعَھُمْ أَیْنَ مَا کَانُوا“(المجادلة:۷) میں ”معیت“ نیز حدیث ”یَضْحَکُ اللَّہُ إِلَی رَجُلَیْنِ“ (البخاري رقم: ۲۸۲۶) میں ”ضحک“ یہ سب اوصاف بلاشبہ اللہ تبارک وتعالی کے لیے اس کی شایانِ شان ثابت ہیں؛ لیکن نہ تو یہ صفات مخلوقات کی صفات کی طرح ہیں لقولہ تعالی: ”لَیْسَ کَمِثْلِھِ شَیْءٌ“ (شوری: ۱۱) اور نہ ہی ہمیں ان اوصاف کی کوئی کیفیت اور حقیقت معلوم ہے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں مسلک سلف کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ”وَإِنَّمَا یُسلک فِي ھَذَا الْمَقَامِ مَذْھَبُ السَّلَفِ ․․․مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِینَ قَدِیمًا وَحَدِیثًا، وَھُوَ إِمْرَارُھَا کَمَا جَائَتْ مِنْ غَیْرِ تَکْیِیفٍ وَلَا تَشْبِیھٍ وَلَا تَعْطِیلٍ“ (ابن کثیر: ۳/۱۶۶،ط: زکریا المائدہ) اسی طرح ملا علی قاری رحمہ اللہ شرح فقہ اکبر میں امام مالک علیہ الرحمة کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں: ”الاستواء معلوم والکیف مجہول، والسوٴال عنہ بدعة والإیمان بہ واجب“، اس کے بعد فرماتے ہیں، ”وہذا طریقة السلف وہو أسلم واللہ أعلم“․ (شرح الفقہ الأکبر: ۴۶) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ نصوص میں وارد صفاتِ خداوندی کو بعینہ اللہ تبارک وتعالی کے لیے ثابت کرنا (کما یلیق بشانہ) اور اس کی کنہ وحقیقت کو مفوض لعلم الٰہی کرنا یہی جمہور سلف کا موقف ہے، واضح ہو کہ یہی ”مسلک تفویض“ ہمارے اکابر علمائے دیوبند کا بھی اصل مسلک ہے، چنانچہ ”المہند علی المفند“ میں حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”قولنا في أمثال تلک الآیات (الرحمن علی العرش استوی) إنا نوٴمن بہا ولا یقال کیف، ونوٴمن باللہ سبحانہ وتعالی متعال ومنزہ من صفات المخلوقین وعن سمات النقص والحدیث کما ہو رأی قدمائنا“․ (ص:۸ ط: رحیمیہ) اسی طرح حضرت تھانوی علیہ الرحمة ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”میں اس عقیدہ میں حضرات سلف کے مسلک پر ہوں کہ نصوص اپنی حقیقت پر ہیں مگر کنہ اس کی معلوم نہیں ہے“ (امداد الفتاوی: ۶/۲۵) نیز فتاوی دارالعلوم کے ایک سوال وجواب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ملاحظہ ہو: سوال: بعض مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گویا ہرچیز میں حلول کیے ہوئے ہے اس میں ہمارے حضرات اکابر کا کیا مسلک ہے؟ جواب: اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول کیے ہوئے نہیں ہے، مگر وہ سب کے ساتھ ہے اور سب کے نزدیک ہے اور سب کو محیط ہے؛ لیکن کیفیت اس کے قرب ومعیت اور احاطہ کی ہم نہیں سمجھ سکتے۔ (فتاوی دارالعلوم: ۱۸/ ۱۰۷،ط: دارالعلوم) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہمارے اکابر علمائے دیوبند کا اصل مسلک وہی ہے جو جمہور سلف کا مسلک ہے یعنی ”مسلک تفویض“۔ (۲) اہل سنت والجماعت کا دوسرا موقف ”تنزیہ مع التاویل“ کا ہے جو جمہور حضرات خلف اورمتأخرین کا مسلک ہے یعنی وہ اس طرح کی نصوص کی ایسی تاویلات کرتے ہیں اور ایسے معنی پر ان کو محمول کرتے ہیں جو ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہو مثلاً: استواء علی العرش کو ”تنفیذ احکام“ سے کنایہ قرار دیتے ہیں، اسی طرح ”ید“ کے معنی قدرت اور ”وضع قدم“ کے معنی مقہور ومغلوب کردینے کے لیتے ہیں نیز ”معیت“ سے معیت بالعلم والقدرة کے معنی مراد لیتے ہیں چنانچہ سورہٴ حدید کی آیت ”وَھُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنْتُمْ“ کی تفسیر میں صاحب بیضاوی فرماتے ہیں: ”أي لا ینفک علمہ وقدرتہ عنکم“ (۲/۴۷۷،ط: بیروت) وہکذا في عامة کتب التفاسیر۔ واضح ہو کہ یہ ”مسلک تاویل“ بھی اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے اور ہمارے علمائے دیوبند بھی ثانوی درجہ میں اس کی اجازت دیتے ہیں، چنانچہ ”المہند علی المفند“ میں ہے ”وأما ما قال المتأخرون من أئمتنا في تلک الآیات یوٴولونہا بتأویلات صحیحة سائغة في اللغة والشرع بأنہ یمکن أن یکون المراد من الاستواء الاستیلاء ومن الید القدرة إلی غیر ذلک تقریبا إلی أفہام القاصرین فحق أیضًا عندنا“ (المہند: ۸) البتہ نصوص میں اس تاویلی معنی مراد لینے کے لیے چند شرطیں ہیں: (۱) لفظ میں وہ تاویلی معنی مراد لینے کی وسعت اور گنجائش ہو۔ (۲) وہ معنی مرادی شان الوہیت کے منافی نہ ہو بلکہ لائق اور مناسب ہو۔ (۳) وہ معنی کسی دوسری نص میں خدا تعالی کے لیے ثابت ہوں۔ (۴) اس تاویلی معنی کو حتمی اور قطعی نہ باور کیا جائے (علمائے دیوبند کے عقائد ونظریات: ۵۴) خلاصہ یہ کہ ”مسلک تفویض“ اور ”مسلک تاویل“ دونوں موقف برحق اوردرست ہیں، دونوں اہل سنت والجماعت کے موقف ومسلک ہیں ان دونوں میں سے کسی کا اعتقاد رکھنے والے کی تجہیل وتغلیط جائز نہیں۔ نیز یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اس میں زیادہ غور وخوض نہیں کرنا چاہیے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ضبیع نامی ایک شخص کو جو مدینہ میں آکر متشابہات میں گفتگو کرتا تھا سخت سزا دی تھی اورجب وہ واپس اپنے وطن گیا تو حضرت ابوموسیٰ اشعری کو حکم بھیجا کہ کوئی مسلمان اس کے پاس بیٹھنے نہ پائے (کذا فی روح المعانی، سورہٴ آل عمران عن سلیمان بن یسار بحوالہ امداد الفتاوی: ۶/۳۹، ط: زکریا دیوبند) آخر میں فتاوی دارالعلوم کا ایک سوال وجواب ملاحظہ ہو: سوال: ایک شخص اللہ جل شانہ کا مقام بلاکیف واتصال عرش کو مانتا ہے اور دوسرا شخص کہتا ہے کہ اللہ جل جلالہ ہرجگہ پر بلاکیف واتصاف ہے، صحیح کیا ہے؟ جواب: یہ دونوں امر صحیح ہیں اور نص میں وارد ہیں، اس میں بحث نہ کرنی چاہیے۔ الخ (فتاوی دارالعلوم: ۱۸/۱۰۷، ط: دارالعلوم دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند